غزل
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
یہ غزل عشق کی پیچیدگیوں کو پیش کرتی ہے، جہاں محبوب کھوئے ہوئے دل کو واپس کرنے سے انکار کرتا ہے، پھر بھی عاشق اسی عشق میں زندگی کا حقیقی مزا اور مقصد پاتا ہے۔ یہ عشق کی متضاد نوعیت کو اجاگر کرتی ہے، جو دوا بھی ہے اور لا علاج درد بھی، اور محبوب کی دلفریب بے رخی کو دکھاتی ہے جو عاشق کے عزم کو چیلنج کرتی ہے۔
Source: rekhta · HI
تشریح · ہر شعر، الفاظ اور مطلب
ابواب اور اشعار →نغمہ سنیں
1
कहते हो न देंगे हम दिल अगर पड़ा पाया
दिल कहाँ कि गुम कीजे हम ने मुद्दआ' पाया
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
تم کہتے ہو کہ اگر میرا دل پڑا ہوا مل گیا تو تم اسے واپس نہیں دو گے۔ لیکن دل کہاں ہے جسے گم کیا جائے؟ ہم نے تو اپنا اصلی مقصد پا لیا ہے۔
2
इश्क़ से तबीअ'त ने ज़ीस्त का मज़ा पाया
दर्द की दवा पाई दर्द-ए-बे-दवा पाया
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
عشق سے طبیعت نے زندگی کا مزہ پایا۔ اِس میں درد کی دوا بھی ملی اور لاعلاج درد بھی پایا۔
3
दोस्त-दार-ए-दुश्मन है ए'तिमाद-ए-दिल मा'लूम
आह बे-असर देखी नाला ना-रसा पाया
دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا
یہ واضح ہے کہ دل کا اعتبار دشمن کی طرف مائل ہے۔ میری آہ بے اثر دیکھی گئی اور میرا نالہ منزل تک نہ پہنچ سکا۔
4
सादगी ओ पुरकारी बे-ख़ुदी ओ हुश्यारी
हुस्न को तग़ाफ़ुल में जुरअत-आज़मा पाया
سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
سادگی اور فنکاری، بے خودی اور ہوشیاری – میں نے حسن کو اس کی بے پروائی میں جرات آزماتے پایا۔
5
ग़ुंचा फिर लगा खिलने आज हम ने अपना दिल
ख़ूँ किया हुआ देखा गुम किया हुआ पाया
غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
جب غنچہ پھر سے کھلنے لگا، تو آج ہم نے اپنے دل کو، جسے ہم نے خون کیا تھا، گم شدہ پایا۔
6
हाल-ए-दिल नहीं मा'लूम लेकिन इस क़दर या'नी
हम ने बार-हा ढूँडा तुम ने बार-हा पाया
حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا
میرے دل کا حال مجھے معلوم نہیں، لیکن اس قدر واضح ہے کہ میں نے اسے بارہا ڈھونڈا اور تم نے اسے بارہا پایا۔
7
शोर-ए-पंद-ए-नासेह ने ज़ख़्म पर नमक छिड़का
आप से कोई पूछे तुम ने क्या मज़ा पाया
شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
ناصح کی نصیحت کے شور نے زخم پر نمک چھڑکا۔ کوئی آپ سے پوچھے، آپ کو اس میں کیا مزا آیا؟
8
है कहाँ तमन्ना का दूसरा क़दम या रब
हम ने दश्त-ए-इम्काँ को एक नक़्श-ए-पा पाया
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا
یا رب، تمنا کا دوسرا قدم کہاں ہے؟ ہم نے امکانات کے وسیع صحرا کو صرف ایک نقشِ پا پایا ہے۔
9
बे-दिमाग़-ए-ख़जलत हूँ रश्क-ए-इम्तिहाँ ता-कै
एक बेकसी तुझ को आलम-आश्ना पाया
بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کے
ایک بیکسی تجھ کو عالم آشنا پایا
میں شرم سے بے سدھ ہوں اور سوچتا ہوں کہ یہ مشکل امتحان، جو خود رشک کا موضوع ہے، کب تک چلے گا۔ میں نے پایا ہے کہ صرف بے بسی ہی دنیا کو صحیح معنوں میں جانتی ہے۔
10
ख़ाक-बाज़ी-ए-उम्मीद कार-ख़ाना-ए-तिफ़्ली
यास को दो-आलम से लब-ब-ख़ंदा वा पाया
خاک بازی امید کارخانۂ طفلی
یاس کو دو عالم سے لب بہ خندہ وا پایا
امید سے کھیلنا بچپنے کا ایک عمل ہے۔ میں نے دونوں جہانوں سے مایوسی کو مسکراتے ہوئے پایا۔
11
क्यूँ न वहशत-ए-ग़ालिब बाज-ख़्वाह-ए-तस्कीं हो
कुश्ता-ए-तग़ाफ़ुल को ख़स्म-ए-ख़ूँ-बहा पाया
کیوں نہ وحشت غالب باج خواہ تسکیں ہو
کشتۂ تغافل کو خصم خوں بہا پایا
کیوں نہ غالب کی وحشت اپنی تسکین واپس طلب کرے؟ کیونکہ میں نے پایا کہ تغافل سے مارے گئے شخص سے ہی دشمن خون بہا طلب کر رہا تھا۔
12
फ़िक्र-ए-नाला में गोया हल्क़ा हूँ ज़े-सर-ता-पा
उज़्व उज़्व जूँ ज़ंजीर यक-दिल-ए-सदा पाया
فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا
عضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا
فکرِ نالہ میں گویا میں سر تا پا ایک حلقہ ہوں۔ میرا ہر عضو زنجیر کی مانند ایک سادہ اور سچا دل پا گیا ہے۔
13
शब नज़ारा-परवर था ख़्वाब में ख़याल उस का
सुब्ह मौजा-ए-गुल को नक़्श-ए-बोरिया पाया
شب نظارہ پرور تھا خواب میں خیال اس کا
صبح موجۂ گل کو نقش بوریا پایا
شب میں اس کا خیال میرے خواب میں ایک شاندار نظارہ پیش کر رہا تھا۔ صبح، پھولوں کی وہ لہر ایک پرانی بوریا کے نقش جیسی پائی گئی، یعنی خواب کی خوبصورتی محض ایک سراب نکلی۔
14
जिस क़दर जिगर ख़ूँ हो कूचा दादन-ए-गुल है
ज़ख्म-ए-तेग़-ए-क़ातिल को तुर्फ़ा दिल-कुशा पाया
جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن گل ہے
زخم تیغ قاتل کو طرفہ دل کشا پایا
جس قدر جگر خون ہوتا ہے، وہی پھولوں کو نچھاور کرنے کا راستہ بن جاتا ہے۔ قاتل کی تلوار کے زخم کو میں نے عجیب طرح سے دلکشا پایا۔
15
है मकीं की पा-दारी नाम-ए-साहिब-ए-ख़ाना
हम से तेरे कूचे ने नक़्श-ए-मुद्दआ पाया
ہے مکیں کی پا داری نام صاحب خانہ
ہم سے تیرے کوچے نے نقش مدعا پایا
مکیں کی پاداری ہی صاحب خانہ کی نیک نامی ہے۔ ہم سے ہی تیرے کوچے نے اپنے مدعا کا نقش پایا۔
16
ने 'असद' जफ़ा-साइल ने सितम जुनूँ-माइल
तुझ को जिस क़दर ढूँडा उल्फ़त-आज़मा पाया
نے اسدؔ جفا سائل نے ستم جنوں مائل
تجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت آزما پایا
اے 'اسد'، میں نہ تو جفا کا طلبگار ہوں اور نہ ہی جنون میں ستم کرنے والا۔ میں نے تمہیں جس قدر ڈھونڈا، اسی قدر محبت کا امتحان پایا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
