غزل
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
یہ غزل محبوب کے دلکش حسن اور دل ربا انداز کی تعریف کرتی ہے، جس کی موجودگی ہر کسی کو سحر زدہ اور ساکت کر دیتی ہے۔ یہ بیان کرتی ہے کہ محبوب کا کسی بھی محفل یا گلزار میں ناز سے آنا سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، یہاں تک کہ فطرت کی خوبصورتی بھی ان کے پیچھے چلتی محسوس ہوتی ہے۔ شاعر اپنے گہرے درد کا اظہار بھی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ظالم محبوب اس کے دکھ کو پہچانے، شاید اس میں اسے کچھ لطف بھی آئے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
जिस बज़्म में तू नाज़ से गुफ़्तार में आवे
जाँ कालबद-ए-सूरत-ए-दीवार में आवे
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
جاں کالبد صورت دیوار میں آوے
جب تو کسی بزم میں ناز سے گفتگو کرتی ہے، تو سب کی جان دیوار کی صورت اختیار کر لیتی ہے، یعنی وہ ساکت و بے حس رہ جاتے ہیں۔ ان کی جان دیوار کی طرح بے حرکت ہو جاتی ہے۔
2
साए की तरह साथ फिरें सर्व ओ सनोबर
तू इस क़द-ए-दिलकश से जो गुलज़ार में आवे
سایہ کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر
تو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے
اگر تم اپنی اس دلکش قامت سے گلزار میں آؤ، تو سرو اور صنوبر بھی سائے کی طرح تمہارے ساتھ پھریں گے۔
3
तब नाज़-ए-गिराँ माइगी-ए-अश्क बजा है
जब लख़्त-ए-जिगर दीदा-ए-ख़ूँ-बार में आवे
تب ناز گراں مایگی اشک بجا ہے
جب لخت جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
تب آنسوؤں کا بھاری ناز بجا ہے، جب لختِ جگر خون بار آنکھوں میں آ جائیں۔
4
दे मुझ को शिकायत की इजाज़त कि सितमगर
कुछ तुझ को मज़ा भी मिरे आज़ार में आवे
دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
اے ستمگر، مجھے شکایت کرنے کی اجازت دے تاکہ تجھے بھی میرے دکھ میں کچھ مزہ آئے۔
5
उस चश्म-ए-फ़ुसूँ-गर का अगर पाए इशारा
तूती की तरह आइना गुफ़्तार में आवे
اس چشم فسوں گر کا اگر پائے اشارہ
طوطی کی طرح آئنہ گفتار میں آوے
اگر اُس جادوگر آنکھ کا اشارہ مِلے، تو آئینہ طوطی کی طرح بولنے لگے گا۔
6
काँटों की ज़बाँ सूख गई प्यास से या रब
इक आबला-पा वादी-ए-पुर-ख़ार में आवे
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب
اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آوے
یا رب، کانٹوں کی زبان پیاس سے خشک ہو گئی ہے، جو سخت ویرانی اور بے تابی کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کاش، کوئی چھالے پیروں والا شخص اس کانٹوں بھری وادی میں آئے۔
7
मर जाऊँ न क्यूँ रश्क से जब वो तन-ए-नाज़ुक
आग़ोश-ए-ख़म-ए-हल्क़ा-ए-ज़ुन्नार में आवे
مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
آغوش خم حلقۂ زنار میں آوے
مَیں رشک سے کیوں نہ مر جاؤں جب وہ نازک بدن زنّار کے خم دار گھیرے کی آغوش میں آئے۔
8
ग़ारत-गर-ए-नामूस न हो गर हवस-ए-ज़र
क्यूँ शाहिद-ए-गुल बाग़ से बाज़ार में आवे
غارت گر ناموس نہ ہو گر ہوس زر
کیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے
اگر ہوسِ زر ناموس کو غارت نہ کرتی، تو پھول کی خوبصورتی باغ سے بازار میں کیوں آتی؟
9
तब चाक-ए-गरेबाँ का मज़ा है दिल-ए-नालाँ
जब इक नफ़स उलझा हुआ हर तार में आवे
تب چاک گریباں کا مزا ہے دل نالاں
جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
اے نالاں دل، گریباں چاک کرنے کا اصل مزہ تب ہے، جب ایک ہی سانس ہر تار میں الجھی ہوئی محسوس ہو۔
10
आतिश-कदा है सीना मिरा राज़-ए-निहाँ से
ऐ वाए अगर मा'रिज़-ए-इज़हार में आवे
آتش کدہ ہے سینہ مرا راز نہاں سے
اے واے اگر معرض اظہار میں آوے
میرا سینہ ایک چھپے ہوئے راز کے باعث آتش کدہ ہے۔ ہائے، اگر وہ راز کبھی ظاہر ہو جائے۔
11
गंजीना-ए-मअ'नी का तिलिस्म उस को समझिए
जो लफ़्ज़ कि 'ग़ालिब' मिरे अशआ'र में आवे
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
غالب، میرے اشعار میں آنے والے ہر لفظ کو معانی کے خزانے کا طلسم سمجھیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
