काँटों की ज़बाँ सूख गई प्यास से या रब
इक आबला-पा वादी-ए-पुर-ख़ार में आवे
“O Lord, the very tongues of thorns have dried up from thirst,May a blister-footed soul enter this thorn-filled valley.”
— مرزا غالب
معنی
یا رب، کانٹوں کی زبان پیاس سے خشک ہو گئی ہے، جو سخت ویرانی اور بے تابی کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کاش، کوئی چھالے پیروں والا شخص اس کانٹوں بھری وادی میں آئے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
