Sukhan AI
غزل

جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغِ جگر ہدیہ

جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغِ جگر ہدیہ
مرزا غالب· Ghazal· 6 shers· radif: आया

یہ غزل گہرے دکھ اور شدید آرزو کو بیان کرتی ہے، جس میں درد کو دل سے پیش کیا گیا ایک قیمتی تحفہ دکھایا گیا ہے۔ یہ بے چین انتظار اور گہری جذباتی کشمکش کی شدت کو نمایاں کرتی ہے، جہاں غم گہرائی تک رچا ہوا ہے۔ شاعر کی مضبوط روح کو اجاگر کیا گیا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ محبوب کے غرور کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जराहत-तोहफ़ा अल्मास-अर्मुग़ाँ दाग़-ए-जिगर हदिया मुबारकबाद 'असद' ग़म-ख़्वार-ए-जान-ए-दर्दमंद आया
میرے زخم تحفے ہیں، میرے الماس جیسے درد نذرانے ہیں، اور جگر کے داغ ہدیہ ہیں۔ مبارک ہو 'اسد'، کیونکہ اِس درد مند جان کا غم خوار آ گیا ہے۔
2
जुनूँ गर्म इंतिज़ार नाला बेताबी कमंद आया सुवैदा ता ब-लब ज़ंजीरी-ए-दूद-ए-सिपंद आया
جنوں کا گرم انتظار اور نالۂ بیتابی ایک کمند بن کر آیا۔ سویدا سے لبوں تک، اسفند کے دھوئیں کی ایک زنجیر نمودار ہوئی۔
3
मह-ए-अख़्तर-फ़शाँ की बहर इस्तिक़बाल आँखों से तमाशा किश्वर-ए-आईना में आईना-बंद आया
آنکھوں سے ستاروں بکھیرنے والے چاند کا استقبال کرنے کے لیے، آئینوں کے ملک میں ایک آئینہ بند تماشا نمودار ہوا۔
4
तग़ाफ़ुल बद-गुमानी बल्कि मेरी सख़्त-जानी से निगाह-ए-बे-हिजाब-ए-नाज़ को बीम-ए-गज़ंद आया
میری تغافل، بدگمانی بلکہ میری سخت جانی سے، ناز بھری بے حجاب نگاہ کو بھی گزند کا بیم آیا۔
5
फ़ज़ा-ए-ख़ंदा-ए-गुल तंग ज़ौक़-ए-ऐश बे-परवा फ़राग़त-गाह-ए-आग़ोश-ए-विदा'-ए-दिल-पसंद आया
پھولوں کی ہنسی کی فضا تنگ ہے اور عیش کا ذوق بے پروا ہے۔ چنانچہ، وداع کی آغوش میں فراغت گاہ دل کو پسند آ گئی ہے۔
6
अदम है ख़ैर-ख़्वाह-ए-जल्वा को ज़िंदान-ए-बेताबी ख़िराम-ए-नाज़ बर्क़-ए-ख़िरमन-ए-सई-ए-सिपंद आया
عدم جلوے کا خیر خواہ ہے لیکن بے تابی کے لیے ایک زندان ہے۔ اس کی ناز و انداز سے بھری چال ایسے آئی جیسے بجلیاں سپند کے کوششوں کے ڈھیر پر گریں اور انہیں جلا دیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغِ جگر ہدیہ | Sukhan AI