غزل
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
یہ غزل عشق کے گہرے اور لازمی دکھ کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ دنیا کے غموں سے فراغت ملنے پر بھی محبوب کی یاد آتی ہے، اور محبوب کی بے رحمی اس قدر ہے کہ وہ خط کو جلا دیتا ہے۔ غزل دل میں چھپے ہوئے غم کو چھپانے کی مشکل اور محبوب کی شوخی بھری بے پروائی کو بھی بیان کرتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ग़म-ए-दुनिया से गर पाई भी फ़ुर्सत सर उठाने की
फ़लक का देखना तक़रीब तेरे याद आने की
غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
اگر مجھے دنیا کے غموں سے سر اٹھانے کی کبھی فرصت ملی بھی، تو آسمان کو دیکھنا بھی تمہاری یاد آنے کا بہانہ بن گیا۔
2
खुलेगा किस तरह मज़मूँ मिरे मक्तूब का या-रब
क़सम खाई है उस काफ़िर ने काग़ज़ के जलाने की
کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب
قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
یا رب، میرے خط کا مضمون کیسے کھلے گا؟ اس بے رحم نے کاغذ جلانے کی قسم کھائی ہے۔
3
लिपटना पर्नियाँ में शोला-ए-आतिश का पिन्हाँ है
वले मुश्किल है हिकमत दिल में सोज़-ए-ग़म छुपाने की
لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا پنہاں ہے
ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی
باریک ریشم میں آگ کی لپٹ کا چھپا ہونا ممکن ہے۔ لیکن دل میں غم کے جلتے درد کو چھپانے کی حکمت یا تدبیر بہت مشکل ہے۔
4
उन्हें मंज़ूर अपने ज़ख़्मियों का देख आना था
उठे थे सैर-ए-गुल को देखना शोख़ी बहाने की
انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
اٹھے تھے سیر گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی
انہیں اپنے زخمیوں کو دیکھنے جانا تھا، مگر وہ باغ کی سیر کے لیے اٹھے؛ بہانے کی یہ شوخی تو دیکھیے۔
5
हमारी सादगी थी इल्तिफ़ात-ए-नाज़ पर मरना
तिरा आना न था ज़ालिम मगर तम्हीद जाने की
ہماری سادگی تھی التفات ناز پر مرنا
ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
ہماری سادگی تھی کہ ہم تمہاری ناز بھری توجہ پر مر مٹے۔ اے ظالم، تمہارا آنا حقیقتاً آنا نہیں تھا بلکہ تمہارے جانے کی تمہید تھی۔
6
लकद कूब-ए-हवादिस का तहम्मुल कर नहीं सकती
मिरी ताक़त कि ज़ामिन थी बुतों की नाज़ उठाने की
لکد کوب حوادث کا تحمل کر نہیں سکتی
مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کی ناز اٹھانے کی
میری طاقت، جو پہلے بتوں (محبوباؤں) کے ناز اٹھانے کی ذمہ دار تھی، اب حادثات کے لگاتار ضربوں کو برداشت نہیں کر سکتی۔
7
कहूँ क्या ख़ूबी-ए-औज़ा-ए-अब्ना-ए-ज़माँ 'ग़ालिब'
बदी की उस ने जिस से हम ने की थी बार-हा नेकी
کہوں کیا خوبی اوضاع ابنائے زماں غالبؔ
بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
غالب، میں آج کے زمانے کے لوگوں کے اخلاق کی کیا تعریف کروں؟ جس سے میں نے کئی بار نیکی کی تھی، اسی نے مجھ سے بدی کی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
