غزل
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
یہ غزل محبت اور زندگی کے تلخ تجربات کی بھاری قیمت پر ماتم کرتی ہے، جہاں شاعر کو اپنے خونِ جگر کے ہر قطرے کا حساب دینا پڑا۔ یہ بکھری ہوئی امیدوں اور آرزوؤں کے ماتم کناں شہر کا ذکر کرتی ہے، جو ٹوٹے ہوئے خوابوں کے درد کی عکاسی ہے۔ یہ اشعار گہری مایوسی، قربانی اور وفا کے فریب میں بھی پائی جانے والی شدید اذیت کو بیان کرتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
एक एक क़तरे का मुझे देना पड़ा हिसाब
ख़ून-ए-जिगर वदीअत-ए-मिज़्गान-ए-यार था
مجھے ہر ایک قطرے کا حساب دینا پڑا، کیونکہ میرے جگر کا خون محبوب کی پلکوں کی امانت تھا۔
2
अब मैं हूँ और मातम-ए-यक-शहर-आरज़ू
तोड़ा जो तू ने आइना तिमसाल-दार था
اب میں صرف ایک شہر بھر کی آرزوؤں کا ماتم کر رہا ہوں۔ جو آئنہ تم نے توڑا تھا، وہ تو تمثالوں (عکسوں) سے بھرا ہوا تھا۔
3
गलियों में मेरी ना'श को खींचे फिरो कि मैं
जाँ-दादा-ए-हवा-ए-सर-ए-रहगुज़ार था
میری لاش کو گلیوں میں کھینچ کر پھرو، کیونکہ میں کھلے راستے پر رہنے کی خواہش کا پجاری تھا۔
4
मौज-ए-सराब-ए-दश्त-ए-वफ़ा का न पूछ हाल
हर ज़र्रा मिस्ल-ए-जौहर-ए-तेग़ आब-दार था
وفا کے دشت کی سراب کی موج کا حال نہ پوچھو۔ ہر ذرہ تیز دھار والی تلوار کے جوہر کی طرح آبدار تھا۔
5
कम जानते थे हम भी ग़म-ए-इश्क़ को पर अब
देखा तो कम हुए प ग़म-ए-रोज़गार था
ہم بھی عشق کے غم کو کم ہی جانتے تھے، مگر جب اب دیکھا تو وہ کم ہو گیا اور اصل میں وہ روزگار کا غم تھا۔
6
किस का जुनून-ए-दीद तमन्ना-शिकार था
आईना-ख़ाना वादी-ए-जौहर-ग़ुबार था
کس کا دیکھنے کا جنون آرزو کا شکاری تھا؟ آئینے کا گھر جوہر کی دھول کی وادی تھا۔
7
किस का ख़याल आइना-ए-इन्तिज़ार था
हर बर्ग-ए-गुल के पर्दे में दिल बे-क़रार था
کس کا خیال انتظار کا آئینہ تھا؟ ہر برگ گل کے پردے میں ایک بے قرار دل تھا۔
8
जूँ ग़ुंचा-ओ-गुल आफ़त-ए-फ़ाल-ए-नज़र न पूछ
पैकाँ से तेरे जल्वा-ए-ज़ख़्म आश्कार था
غنچے اور پھول کی طرح، بدشگونی نظر کی آفت کے بارے میں مت پوچھو۔ تمہارے تیر کے پیکاں سے زخم کا جلوہ آشکار تھا۔
9
देखी वफ़ा-ए-फ़ुर्सत-ए-रंज-ओ-नशात-ए-दहर
ख़म्याज़ा यक-दराज़ी-ए-उम्र-ए-ख़ुमार था
میں نے دنیا کے رنج و نشاط (غموں اور خوشیوں) کی مستقل عارضی پن دیکھی۔ اس کا خمیازہ زندگی کا ایک طویل اور تنہا خماری کا عالم تھا۔
10
सुब्ह-ए-क़यामत एक दुम-ए-गुर्ग थी 'असद'
जिस दश्त में वो शोख़-ए-दो-आलम शिकार था
اسد، جس دشت میں وہ شوخِ دو عالم شکار کر رہا تھا، قیامت کی صبح محض ایک بھیڑیے کی دم جیسی تھی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
