Sukhan AI
غزل

درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: हुआ

یہ غزل بے مثال خودداری اور گہرے غرور کے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے، جہاں شاعر اپنے دکھ اور عبادت میں بھی اپنی منفرد حیثیت پر زور دیتا ہے، اور خودداری کو ترک کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یہ لطیف انداز میں یہ بھی بتاتی ہے کہ الٰہی یا محبوب کی غیر موجودگی کے امتحانات برداشت کرنا ہی ایک امتیاز کی علامت ہے، جو عاجزی پر ایک غیر روایتی نقطہ نظر کو نمایاں کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दर-ख़ुर-ए-क़हर-ओ-ग़ज़ब जब कोई हम सा हुआ फिर ग़लत क्या है कि हम सा कोई पैदा हुआ
جب ہمارے جیسا کوئی آپ کے قہر و غضب کے لائق نہ پایا گیا، تو اس میں کیا غلط ہے کہ ہمارے جیسا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔
2
बंदगी में भी वो आज़ादा ख़ुद-बीं हैं कि हम उल्टे फिर आए दर-ए-का'बा अगर वा हुआ
بندگی میں بھی ہم اتنے آزاد اور خود بیں ہیں کہ اگر کعبہ کا دروازہ ہمارے لیے نہ کھلا تو ہم وہاں سے الٹے لوٹ آئیں گے۔
3
सब को मक़्बूल है दा'वा तिरी यकताई का रू-ब-रू कोई बुत-ए-आइना-सीमा हुआ
سب کو تمہاری یکتائی کا دعویٰ منظور ہے، کیونکہ تمہارے روبرو کوئی بھی آئین جیسے چہرے والا بت نہیں آ سکا۔
4
कम नहीं नाज़िश-ए-हमनामी-ए-चश्म-ए-ख़ूबाँ तेरा बीमार बुरा क्या है गर अच्छा हुआ
حسینوں کی آنکھوں کے ساتھ ہم نامی کوئی کم فخر کی بات نہیں ہے۔ تمہارے بیمار کا کیا قصور اگر وہ ٹھیک نہ ہو سکا؟
5
सीने का दाग़ है वो नाला कि लब तक गया ख़ाक का रिज़्क़ है वो क़तरा कि दरिया हुआ
وہ نالہ جو لب تک نہ جا سکا، سینے کا ایک داغ ہے۔ وہ قطرہ جو دریا نہ بن سکا، خاک کا رزق ہے۔
6
नाम का मेरे है जो दुख कि किसी को मिला काम में मेरे है जो फ़ित्ना कि बरपा हुआ
جو دُکھ میرے نام کا ہے، وہ کسی اور کو نہیں ملا۔ جو فِتنہ میرے کام میں ہے، وہ کبھی برپا نہیں ہوا۔
7
हर-बुन-ए-मू से दम-ए-ज़िक्र टपके ख़ूँ नाब हमज़ा का क़िस्सा हुआ इश्क़ का चर्चा हुआ
اگر عشق کا ذکر کرنے پر جسم کے ہر بال کی جڑ سے تازہ خون نہ ٹپکے، تو یہ صرف حمزہ کا قصہ (ایک رزمیہ کہانی) ہوا، عشق کی حقیقی بات یا چرچا نہیں ہوا۔
8
क़तरा में दजला दिखाई दे और जुज़्व में कुल खेल लड़कों का हुआ दीदा-ए-बीना हुआ
اگر قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل نہ دکھائی دے، تو یہ لڑکوں کا کھیل ہوا، کوئی بینا آنکھ نہ ہوئی۔
9
थी ख़बर गर्म कि 'ग़ालिब' के उड़ेंगे पुर्ज़े देखने हम भी गए थे तमाशा हुआ
یہ خبر بہت گرم تھی کہ غالب کے پرزے اڑ جائیں گے۔ ہم بھی یہ دیکھنے گئے تھے، مگر کوئی تماشا نہیں ہوا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا | Sukhan AI