नाम का मेरे है जो दुख कि किसी को न मिला
काम में मेरे है जो फ़ित्ना कि बरपा न हुआ
“The sorrow that belongs to my name, no other soul has claimed,nor found,nor knew, The mischief latent in my deeds, that never truly brewed,nor stirred,nor grew.”
— مرزا غالب
معنی
جو دُکھ میرے نام کا ہے، وہ کسی اور کو نہیں ملا۔ جو فِتنہ میرے کام میں ہے، وہ کبھی برپا نہیں ہوا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
