غزل
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
یہ غزل، غالب کی مشہور تصنیف، دنیاوی خواہشات اور شان و شوکت کی ناپائیداری کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ ہزاروں خواہشات کے باوجود، وہ دنیا کو محض ایک بچوں کا کھیل کا میدان سمجھتا ہے، جہاں روز و شب ایک تماشا برپا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ سلیمان کا تخت اور حضرت عیسیٰؑ کے معجزات جیسے عظیم الشان معاملات بھی اس کی نظر میں ایک معمولی کھیل یا بات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ زندگی کی فانی جستجوؤں کے بارے میں ایک گہرا فلسفیانہ نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बाज़ीचा-ए-अतफ़ाल है दुनिया मिरे आगे
होता है शब-ओ-रोज़ तमाशा मिरे आगे
دنیا میرے آگے بچوں کا کھیل کا میدان ہے، میرے سامنے شب و روز تماشا ہوتا ہے۔
2
इक खेल है औरंग-ए-सुलैमाँ मिरे नज़दीक
इक बात है एजाज़-ए-मसीहा मिरे आगे
میرے نزدیک سلیمان کا تخت ایک کھیل ہے اور مسیحا کا معجزہ میرے آگے ایک عام سی بات ہے۔
3
जुज़ नाम नहीं सूरत-ए-आलम मुझे मंज़ूर
जुज़ वहम नहीं हस्ती-ए-अशिया मिरे आगे
میرے لیے دنیا کی صورت محض ایک نام ہے۔ میرے سامنے چیزوں کا وجود صرف ایک وہم ہے۔
4
होता है निहाँ गर्द में सहरा मिरे होते
घिसता है जबीं ख़ाक पे दरिया मिरे आगे
میرے ہوتے ہوئے صحرا گرد میں چھپ جاتا ہے؛ میرے سامنے دریا خاک پر اپنا ماتھا رگڑتا ہے۔
5
मत पूछ कि क्या हाल है मेरा तिरे पीछे
तू देख कि क्या रंग है तेरा मिरे आगे
مت پوچھو کہ تمھارے جانے کے بعد میرا کیا حال ہے۔ بس یہ دیکھو کہ میرے سامنے تمھاری موجودگی کا کیا اثر یا رنگ ہے۔
6
सच कहते हो ख़ुद-बीन ओ ख़ुद-आरा हूँ न क्यूँ हूँ
बैठा है बुत-ए-आइना-सीमा मिरे आगे
تم سچ کہتے ہو، میں خودبین اور خودآرا ہوں، اور کیوں نہ ہوں؟ کیونکہ میرے سامنے ایک بُت بیٹھا ہے جس کا چہرہ آئینے جیسا ہے۔
7
फिर देखिए अंदाज़-ए-गुल-अफ़्शानी-ए-गुफ़्तार
रख दे कोई पैमाना-ए-सहबा मिरे आगे
پھر میری گفتگو میں پھول نچھاور کرنے کا انداز دیکھیے، اگر کوئی میرے سامنے شراب کا پیالہ رکھ دے۔
8
नफ़रत का गुमाँ गुज़रे है मैं रश्क से गुज़रा
क्यूँकर कहूँ लो नाम न उन का मिरे आगे
ایسا لگتا ہے کہ نفرت کا گمان گزر رہا ہے، مگر میں حسد سے گزر رہا ہوں۔ میں کیسے کہوں، لو، میرے سامنے ان کا نام مت لو۔
9
ईमाँ मुझे रोके है जो खींचे है मुझे कुफ़्र
काबा मिरे पीछे है कलीसा मिरे आगे
ایمان مجھے روکے ہوئے ہے جبکہ کفر اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ کعبہ میرے پیچھے ہے اور کلیسا میرے سامنے ہے۔
10
आशिक़ हूँ प माशूक़-फ़रेबी है मिरा काम
मजनूँ को बुरा कहती है लैला मिरे आगे
میں عاشق ہوں مگر معشوق کو فریب دینا میرا کام ہے۔ لیلیٰ میرے سامنے مجنوں کو برا کہتی ہے۔
11
ख़ुश होते हैं पर वस्ल में यूँ मर नहीं जाते
आई शब-ए-हिज्राँ की तमन्ना मिरे आगे
لوگ خوش ہوتے ہیں، مگر وصل میں یوں مر نہیں جاتے۔ میرے سامنے تو شبِ ہجراں کی تمنا آ گئی۔
12
है मौजज़न इक क़ुल्ज़ुम-ए-ख़ूँ काश यही हो
आता है अभी देखिए क्या क्या मिरे आगे
خون کا ایک سمندر موجیں مار رہا ہے، کاش بس یہی ہو۔ ابھی دیکھیے میرے سامنے کیا کیا آتا ہے۔
13
गो हाथ को जुम्बिश नहीं आँखों में तो दम है
रहने दो अभी साग़र-ओ-मीना मिरे आगे
اگرچہ میرے ہاتھ میں حرکت نہیں ہے، میری آنکھوں میں ابھی جان باقی ہے۔ لہٰذا، ابھی ساغر اور مینا کو میرے سامنے ہی رہنے دو۔
14
हम-पेशा ओ हम-मशरब ओ हमराज़ है मेरा
'ग़ालिब' को बुरा क्यूँ कहो अच्छा मिरे आगे
وہ میرا ہم پیشہ، ہم مشرب اور ہم راز ہے۔ غالب کو میرے سامنے برا کیوں کہتے ہو، ان کی اچھائی بیان کرو۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
