غزل

از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ

از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: आइना

یہ غزل "آئنہ" کے استعارے کی گہرائی سے چھان بین کرتی ہے، جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ عظیم ترین سورج سے لے کر چھوٹے سے ذرے تک، ہر دل ایک عکاس سطح ہے۔ یہ آفاقی ادراک، شدید جذبات پر حیرت، اور بیرونی مظاہر کے ساتھ ساتھ اندرونی کیفیات میں پائے جانے والے پوشیدہ انعکاس کے موضوعات پر روشنی ڈالتی ہے۔ شاعر آئینے کو نہ صرف ظاہری روپ، بلکہ وجود اور انسانی تجربے کی گہری، اکثر پیچیدہ، حقیقتوں کو ظاہر کرنے والے کے طور پر پیش کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
अज़-मेहर ता-ब-ज़र्रा दिल-ओ-दिल है आइना तूती को शश-जिहत से मुक़ाबिल है आइना
از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ طوطی کو شش جہت سے مقابل ہے آئنہ
سورج سے لے کر ایک ذرے تک، ہر دل ایک آئینہ ہے۔ طوطے کو چھ جہتوں سے آئینہ ہی سامنا کر رہا ہے۔
2
हैरत हुजूम-ए-लज़्ज़त-ए-ग़लतानी-ए-तपिश सीमाब-ए-बालिश ओ कमर-ए-दिल है आइना
حیرت ہجوم لذت غلطانیٔ تپش سیماب بالش و کمر دل ہے آئنہ
حیرت دراصل بے چین تپش کی لذت کا ایک ہجوم ہے، اور پارے کا تکیہ اور دل کی کمر اس کا آئینہ ہے۔
3
ग़फ़लत ब-बाल-ए-जौहर-ए-शमशीर पर-फ़िशाँ याँ पुश्त-ए-चश्म-ए-शोख़ी-ए-क़ातिल है आइना
غفلت بہ بال جوہر شمشیر پرفشاں یاں پشت چشم شوخیٔ قاتل ہے آئنہ
تلوار کی تیزی اور چمک پر غفلت چھائی ہوئی ہے۔ یہاں قاتل کی شوخ نظر ہی آئنہ ہے۔
4
हैरत-निगाह-ए-बर्क़-ए-तमाशा बहार-ए-शोख़ दर-पर्दा-ए-हवा पर-ए-बिस्मिल है आइना
حیرت نگاہ برق تماشا بہار شوخ در پردۂ ہوا پر بسمل ہے آئنہ
حیرت سے بھری نگاہ، بجلی کی طرح کا تماشا اور شوخ بہار؛ ہوا کے پردے میں، آئینہ ایک ذبح کیے گئے پرندے کا پر ہے۔
5
याँ रह गए हैं नाख़ुन-ए-तदबीर टूट कर जौहर-तिलिस्म-ए-उक़्दा-ए-मुश्किल है आइना
یاں رہ گئے ہیں ناخن تدبیر ٹوٹ کر جوہر طلسم عقدۂ مشکل ہے آئنہ
یہاں تدبیر کے ناخن ٹوٹ کر رہ گئے ہیں۔ مشکل عقدہ کا جوہر اور طلسم آئینہ ہی ہے۔
6
हम-ज़ानू-ए-तअम्मुल ओ हम-जल्वा-गाह-ए-गुल आईना-बंद ख़ल्वत-ओ-महफ़िल है आइना
ہم زانوئے تأمل و ہم جلوہ گاہ گل آئینہ بند خلوت و محفل ہے آئنہ
آئینہ سوچ بچار میں شریک ہے اور گل کے جلوہ گاہ میں ساتھ ہے۔ یہ خلوت اور محفل دونوں کی زینت ہے۔
7
दिल कार-गाह-ए-फ़िक्र ओ 'असद' बे-नवा-ए-दिल याँ संग-ए-आस्ताना-ए-'बेदिल' है आइना
دل کار گاہ فکر و اسدؔ بے نوائے دل یاں سنگ آستانۂ بیدلؔ ہے آئنہ
میرا دل، اسد، فکروں کی ایک کارگاہ ہے، مگر یہ ایک بے آواز دل ہے۔ یہاں، بیدل کی دہلیز کا پتھر ایک آئینہ ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.