غزل
از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ
از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ
یہ غزل "آئنہ" کے استعارے کی گہرائی سے چھان بین کرتی ہے، جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ عظیم ترین سورج سے لے کر چھوٹے سے ذرے تک، ہر دل ایک عکاس سطح ہے۔ یہ آفاقی ادراک، شدید جذبات پر حیرت، اور بیرونی مظاہر کے ساتھ ساتھ اندرونی کیفیات میں پائے جانے والے پوشیدہ انعکاس کے موضوعات پر روشنی ڈالتی ہے۔ شاعر آئینے کو نہ صرف ظاہری روپ، بلکہ وجود اور انسانی تجربے کی گہری، اکثر پیچیدہ، حقیقتوں کو ظاہر کرنے والے کے طور پر پیش کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अज़-मेहर ता-ब-ज़र्रा दिल-ओ-दिल है आइना
तूती को शश-जिहत से मुक़ाबिल है आइना
سورج سے لے کر ایک ذرے تک، ہر دل ایک آئینہ ہے۔ طوطے کو چھ جہتوں سے آئینہ ہی سامنا کر رہا ہے۔
2
हैरत हुजूम-ए-लज़्ज़त-ए-ग़लतानी-ए-तपिश
सीमाब-ए-बालिश ओ कमर-ए-दिल है आइना
حیرت دراصل بے چین تپش کی لذت کا ایک ہجوم ہے، اور پارے کا تکیہ اور دل کی کمر اس کا آئینہ ہے۔
3
ग़फ़लत ब-बाल-ए-जौहर-ए-शमशीर पर-फ़िशाँ
याँ पुश्त-ए-चश्म-ए-शोख़ी-ए-क़ातिल है आइना
تلوار کی تیزی اور چمک پر غفلت چھائی ہوئی ہے۔ یہاں قاتل کی شوخ نظر ہی آئنہ ہے۔
4
हैरत-निगाह-ए-बर्क़-ए-तमाशा बहार-ए-शोख़
दर-पर्दा-ए-हवा पर-ए-बिस्मिल है आइना
حیرت سے بھری نگاہ، بجلی کی طرح کا تماشا اور شوخ بہار؛ ہوا کے پردے میں، آئینہ ایک ذبح کیے گئے پرندے کا پر ہے۔
5
याँ रह गए हैं नाख़ुन-ए-तदबीर टूट कर
जौहर-तिलिस्म-ए-उक़्दा-ए-मुश्किल है आइना
یہاں تدبیر کے ناخن ٹوٹ کر رہ گئے ہیں۔ مشکل عقدہ کا جوہر اور طلسم آئینہ ہی ہے۔
6
हम-ज़ानू-ए-तअम्मुल ओ हम-जल्वा-गाह-ए-गुल
आईना-बंद ख़ल्वत-ओ-महफ़िल है आइना
آئینہ سوچ بچار میں شریک ہے اور گل کے جلوہ گاہ میں ساتھ ہے۔ یہ خلوت اور محفل دونوں کی زینت ہے۔
7
दिल कार-गाह-ए-फ़िक्र ओ 'असद' बे-नवा-ए-दिल
याँ संग-ए-आस्ताना-ए-'बेदिल' है आइना
میرا دل، اسد، فکروں کی ایک کارگاہ ہے، مگر یہ ایک بے آواز دل ہے۔ یہاں، بیدل کی دہلیز کا پتھر ایک آئینہ ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
