हैरत हुजूम-ए-लज़्ज़त-ए-ग़लतानी-ए-तपिश
सीमाब-ए-बालिश ओ कमर-ए-दिल है आइना
“Astonishment, the surging joy of passion's restless, fiery plight,A quicksilver pillow and the heart's deep core, reflect this wondrous light.”
— مرزا غالب
معنی
حیرت دراصل بے چین تپش کی لذت کا ایک ہجوم ہے، اور پارے کا تکیہ اور دل کی کمر اس کا آئینہ ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
