दिल कार-गाह-ए-फ़िक्र ओ 'असद' बे-नवा-ए-दिल
याँ संग-ए-आस्ताना-ए-'बेदिल' है आइना
“My heart, 'Asad', a workshop of thought, yet it has no true sound,Here, the threshold-stone of 'Bedil' is a mirror, where deep truths are found.”
— مرزا غالب
معنی
میرا دل، اسد، فکروں کی ایک کارگاہ ہے، مگر یہ ایک بے آواز دل ہے۔ یہاں، بیدل کی دہلیز کا پتھر ایک آئینہ ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev7 / 7
