हम-ज़ानू-ए-तअम्मुल ओ हम-जल्वा-गाह-ए-गुल
आईना-बंद ख़ल्वत-ओ-महफ़िल है आइना
“A confidant in thought, it shares the rose's grace,The mirror adorns solitude and public space.”
— مرزا غالب
معنی
آئینہ سوچ بچار میں شریک ہے اور گل کے جلوہ گاہ میں ساتھ ہے۔ یہ خلوت اور محفل دونوں کی زینت ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
