Sukhan AI
غزل

'اسد' ہم وہ جنوں جولاں گداے بے سر و پا ہیں

'اسد' ہم وہ جنوں جولاں گداے بے سر و پا ہیں
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: अपना

یہ غزل، جو 'اسد' (غالب) سے منسوب ہے، وجودی بے تعلقی، وقت کی بے رحم روانی، اور کرب کے درمیان سچائی کی تلاش کے موضوعات پر روشنی ڈالتی ہے۔ شاعر خود کو ایک جنونی آوارہ گرد کے طور پر پیش کرتے ہوئے، انتظار کے کرب اور جنون سے آنے والی گہری تبدیلیوں پر غور کرتے ہیں۔ آخر میں، وہ ایک قیدی کی خاموش التجا کا اظہار کرتے ہیں، یہ امید کرتے ہوئے کہ ظالم کو اپنی ہی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
'असद' हम वो जुनूँ-जौलाँ गदा-ए-बे-सर-ओ-पा हैं कि है सर-पंजा-ए-मिज़्गान-ए-आहू पुश्त-ख़ार अपना
اسد، ہم وہ جنوں جولاں بے سر و پا فقیر ہیں کہ ہرن کی پلکوں کا سر پنجہ ہی ہمارا پشت خوار ہے۔
2
न भूला इज़्तिराब-ए-दम-शुमारी इंतिज़ार अपना कि आख़िर शीशा-ए-साअ'त के काम आया ग़ुबार अपना
میرا بے چین انتظار اور سانسوں کا شمار کرنا نہیں بھولا، کیونکہ آخرکار میری اپنی خاک ہی گھڑی کے شیشے کے کام آئی۔
3
ज़ि-बस आतिश ने फ़स्ल-ए-रंग में रंग-ए-दिगर पाया चराग़-ए-गुल से ढूँढे है चमन में शम्अ' ख़ार अपना
آتش نے رنگوں کے موسم میں ایسا مختلف رنگ پایا کہ پھول کا چراغ چمن میں اپنی کانٹوں والی شمع کو ڈھونڈ رہا ہے۔
4
असीर-ए-बे-ज़बाँ हूँ काश के सय्याद-ए-बे-पर्वा ब-दाम-ए-जौहर-ए-आईना हो जावे शिकार अपना
میں ایک بے زبان قیدی ہوں۔ کاش کہ بے پروا شکاری، آئینے کے جوہر (اس کی اصلیت یا عکس) کے جال میں خود اپنا شکار بن جائے۔
5
मगर हो माने-ए-दामन-कुशी ज़ौक़-ए-ख़ुद-आराई हुआ है नक़्श-बंद आईना-ए-संग-ए-मज़ार अपना
کاش خود کو سجانے کا شوق روح کے دنیا سے کنارہ کشی کرنے میں رکاوٹ بنے۔ میری قبر کا پتھر ہی میرا آئینہ بن کر اب میری تصویر نقش کرنے والا بن گیا ہے۔
6
दरेग़ ऐ ना-तवानी वर्ना हम ज़ब्त-आश्नायाँ ने तिलिस्म-ए-रंग में बाँधा था अहद-ए-उस्तुवार अपना
افسوس ہے اس ناتوانی پر! ورنہ ہم ضبط آشناؤں نے اپنے پختہ عہد کو رنگ کے طلسم میں باندھ لیا تھا۔
7
अगर आसूदगी है मुद्दआ'-ए-रंज-ए-बेताबी नियाज़-ए-गर्दिश-ए-पैमाना-ए-मै रोज़गार अपना
اگر بے چینی کے دکھ کا مقصد اطمینان ہے تو ہماری زندگی صرف شراب کے پیمانے کے گردش کرنے کی تمنا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

'اسد' ہم وہ جنوں جولاں گداے بے سر و پا ہیں | Sukhan AI