मगर हो माने-ए-दामन-कुशी ज़ौक़-ए-ख़ुद-आराई
हुआ है नक़्श-बंद आईना-ए-संग-ए-मज़ार अपना
“May the zest for self-adornment bar my spirit's final rest;My tomb's stone mirror now has turned engraver, self-impressed.”
— مرزا غالب
معنی
کاش خود کو سجانے کا شوق روح کے دنیا سے کنارہ کشی کرنے میں رکاوٹ بنے۔ میری قبر کا پتھر ہی میرا آئینہ بن کر اب میری تصویر نقش کرنے والا بن گیا ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
