Sukhan AI
غزل

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
مرزا غالب· Ghazal· 8 shers· radif: तक

یہ غزل، جس کا عنوان "صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے" ہے، صبر، استقامت اور کسی مطلوبہ نتیجے تک پہنچنے کے مشکل سفر کے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔ منتخب اشعار اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ ایک آہ کو اثر کرنے میں یا محبوب کی زلفوں کو سنوارنے میں کتنا طویل وقت اور کوشش درکار ہوتی ہے۔ مزید برآں، یہ ایک قطرے کے موتی بننے کے دشوار گزار سفر کو بھی بیان کرتی ہے، جس میں اسے بے شمار خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ غزل سچائی کی فوری دستیابی (جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہوتا ہے) اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے یا گہری حقیقتوں کو سمجھنے کے طویل اور کٹھن عمل کے درمیان تضاد پیش کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
आह को चाहिए इक उम्र असर होते तक कौन जीता है तिरी ज़ुल्फ़ के सर होते तक
آہ کو اثر کرنے میں ایک عمر لگتی ہے، تیری زلف کے قابو ہونے تک کون جیتا ہے؟
2
दाम-ए-हर-मौज में है हल्क़ा-ए-सद-काम-ए-नहंग देखें क्या गुज़रे है क़तरे पे गुहर होते तक
ہر موج کے جال میں سو منہ والے مگرمچھ کا حلقہ ہے؛ دیکھتے ہیں موتی بننے تک قطرے پر کیا گزرتی ہے۔
3
आशिक़ी सब्र-तलब और तमन्ना बेताब दिल का क्या रंग करूँ ख़ून-ए-जिगर होते तक
عشق صبر طلب ہے مگر دل کی آرزوئیں بے چین ہیں۔ خون جگر ہونے تک دل کی کیا حالت کروں؟
5
परतव-ए-ख़ुर से है शबनम को फ़ना की ता'लीम मैं भी हूँ एक इनायत की नज़र होते तक
سورج کی چمک سے شبنم کو فنا کا سبق ملتا ہے، میں بھی ایک عنایت کی نظر پڑنے تک موجود ہوں۔
6
यक नज़र बेश नहीं फ़ुर्सत-ए-हस्ती ग़ाफ़िल गर्मी-ए-बज़्म है इक रक़्स-ए-शरर होते तक
اے غافل، زندگی کا موقع ایک نظر سے زیادہ نہیں۔ محفل کی گرمی بس ایک شرارے کے رقص کرنے تک ہی ہے۔
7
ग़म-ए-हस्ती का 'असद' किस से हो जुज़ मर्ग इलाज शम्अ हर रंग में जलती है सहर होते तक
اے اسد، غمِ ہستی کا موت کے سوا اور کس سے علاج ہو سکتا ہے؟ شمع ہر رنگ میں، یعنی ہر حالت میں، صبح ہونے تک جلتی رہتی ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک | Sukhan AI