غزل
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
یہ غزل، جس کا عنوان "صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے" ہے، صبر، استقامت اور کسی مطلوبہ نتیجے تک پہنچنے کے مشکل سفر کے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔ منتخب اشعار اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ ایک آہ کو اثر کرنے میں یا محبوب کی زلفوں کو سنوارنے میں کتنا طویل وقت اور کوشش درکار ہوتی ہے۔ مزید برآں، یہ ایک قطرے کے موتی بننے کے دشوار گزار سفر کو بھی بیان کرتی ہے، جس میں اسے بے شمار خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ غزل سچائی کی فوری دستیابی (جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہوتا ہے) اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے یا گہری حقیقتوں کو سمجھنے کے طویل اور کٹھن عمل کے درمیان تضاد پیش کرتی ہے۔
Source: rekhta · HI
ویڈیو · بالی وڈ
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
आह को चाहिए इक उम्र असर होते तक
कौन जीता है तिरी ज़ुल्फ़ के सर होते तक
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
آہ کو اثر کرنے میں ایک عمر لگتی ہے، تیری زلف کے قابو ہونے تک کون جیتا ہے؟
2
दाम-ए-हर-मौज में है हल्क़ा-ए-सद-काम-ए-नहंग
देखें क्या गुज़रे है क़तरे पे गुहर होते तक
دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
ہر موج کے جال میں سو منہ والے مگرمچھ کا حلقہ ہے؛ دیکھتے ہیں موتی بننے تک قطرے پر کیا گزرتی ہے۔
3
आशिक़ी सब्र-तलब और तमन्ना बेताब
दिल का क्या रंग करूँ ख़ून-ए-जिगर होते तक
عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
عشق صبر طلب ہے مگر دل کی آرزوئیں بے چین ہیں۔ خون جگر ہونے تک دل کی کیا حالت کروں؟
4
हम ने माना कि तग़ाफ़ुल न करोगे लेकिन
ख़ाक हो जाएँगे हम तुम को ख़बर होते तक
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
5
परतव-ए-ख़ुर से है शबनम को फ़ना की ता'लीम
मैं भी हूँ एक इनायत की नज़र होते तक
پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
سورج کی چمک سے شبنم کو فنا کا سبق ملتا ہے، میں بھی ایک عنایت کی نظر پڑنے تک موجود ہوں۔
6
यक नज़र बेश नहीं फ़ुर्सत-ए-हस्ती ग़ाफ़िल
गर्मी-ए-बज़्म है इक रक़्स-ए-शरर होते तक
یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل
گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک
اے غافل، زندگی کا موقع ایک نظر سے زیادہ نہیں۔ محفل کی گرمی بس ایک شرارے کے رقص کرنے تک ہی ہے۔
7
ग़म-ए-हस्ती का 'असद' किस से हो जुज़ मर्ग इलाज
शम्अ हर रंग में जलती है सहर होते तक
غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
اے اسد، غمِ ہستی کا موت کے سوا اور کس سے علاج ہو سکتا ہے؟ شمع ہر رنگ میں، یعنی ہر حالت میں، صبح ہونے تک جلتی رہتی ہے۔
8
ता-क़यामत शब-ए-फ़ुर्क़त में गुज़र जाएगी उम्र
सात दिन हम पे भी भारी हैं सहर होते तक
تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
جدائی کی رات میں عمر قیامت تک گزر جائے گی، صبح ہونے تک سات دن بھی بھاری ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
