غزل
फ़िराक़ गोरखपुरी - किसी का यूं तो हुआ कौन
फ़िराक़ गोरखपुरी - किसी का यूं तो हुआ कौन
یہ غزل زندگی اور عشق کی فانی نوعیت پر ایک گہرا خیال ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگرچہ حسن و عشق سب دھوکہ ہے، مگر اس سے نکلنا مشکل ہے۔ وقت کے گزرنے اور حالات کے بدلنے کے باوجود، محبوب کی یاد اور اس کا اثر آج بھی دل میں موجود ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
किसी का यूं तो हुआ कौन उम्र भर फिर भी
ये हुस्न-ओ-इश्क़ तो धोका है सब, मगर फिर भी
کسی کے ساتھ زندگی میں ایسے واقع ہونا عام ہے، مگر یہ حسن و عشق سب ایک دھوکہ ہے، پھر بھی۔
2
हजार बार ज़माना इधर से गुजरा
नई नई है मगर कुछ तेरी रहगुज़र फिर भी
ہزار بار زمانہ یہاں سے گزرا، نئی ہے مگر کچھ تیری رہگزر پھر بھی۔
3
खुशा इशारा-ए-पैहम, जेह-ए-सुकूत नज़र
दराज़ होके फ़साना है मुख्तसर फिर भी
کیا پیارا اشارہ ہے، کیا خاموش نظروں سے، یہ کہانی طویل ہے، پھر بھی مختصر ہے۔
4
झपक रही हैं ज़मान-ओ-मकाँ की भी आँखें
मगर है काफ्ला आमादा-ए-सफर फिर भी
زماں و مکان کی بھی آنکھیں جھپک رہی ہیں، مگر ہے قافلہ آمدا-ए-سفر پھر بھی۔
5
पलट रहे हैं गरीबुल वतन, पलटना था
वोः कूचा रूकश-ए-जन्नत हो, घर है घर, फिर भी
غریبول وطن پلٹ رہے ہیں، حالانکہ وہ کوچہ جنت کا ٹھہراؤ ہے، اور گھر ہے، پھر بھی۔
6
तेरी निगाह से बचने में उम्र गुजरी है
उतर गया रग-ए- जां में ये नश्तर फिर भी
تیرے نگاہ سے بچنے میں عمر گزر گئی ہے، پھر بھی یہ نَشتر رگِ جان میں اتر گیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
