पलट रहे हैं गरीबुल वतन, पलटना था
वोः कूचा रूकश-ए-जन्नत हो, घर है घर, फिर भी
“The poor homeland is turning, it was meant to turn That alleyway is the stopping point of paradise, it is home, even so”
— فراق گورکھپوری
معنی
غریبول وطن پلٹ رہے ہیں، حالانکہ وہ کوچہ جنت کا ٹھہراؤ ہے، اور گھر ہے، پھر بھی۔
تشریح
یہ شعر وطن سے بیگانگی کے گہرے دکھ کو بیان کرتا ہے۔ शायर کہہ رہے ہیں کہ وہ 'غریبول وطن' (کمزور وतन) पलट रहा है; وہ سڑک جو جنت کا تصور تھی، وہ گھر ہے، پھر بھی یہ دل کو بے قرار کر گئی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
