غزل
फ़िराक़ गोरखपुरी - यह नर्म नर्म हवा
फ़िराक़ गोरखपुरी - यह नर्म नर्म हवा
یہ غزل فیرق गोरखपुरी کا کلام ہے، جس میں شاعر نے ہر نرم ہوا کے جھونکے میں محبوب کے خیأل اور یادوں کو محسوس کیا ہے۔ اس میں دل کی گہرائیوں سے گزرتے عشق کے احساس اور تصور کی خوشبو کو بہت ہی نازکی سے بیان کیا گیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
यह नर्म नर्म हवा झिलमिला रहे हैं चिराग़
तेरे ख़्याल की खुश्बू से बस रहे हैं दिमाग़
یہ نرم ہوا چمکتے چراغوں کی طرح ہے، اور میرا ذہن صرف آپ کی یاد کی خوشبو میں رہتا ہے۔
2
दिलों को तेरे तबस्सुम की याद यूं आई
कि जगमगा उठें जिस तरह मंदिरों में चिराग
تیرے مسکراہٹ کی یاد دل میں اتنی آئی کہ جیسے مندروں کے چراغ جگمگا اٹھے۔
3
तमाम शोला-ए-गुल है तमाम मौज-ए-बहार
कि ता-हद-ए-निगाह-ए-शौक़ लहलहाते हैं बाग़
یہ سب گل کے شعلے ہیں اور یہ سب بہار کی لہریں ہیں، کہ شوق کی ایک نگاہ میں باغ کھل اٹھتا ہے۔
4
'नई ज़मीं, नया आस्मां, नई दुनिया'
सुना तो है कि मोहब्बत को इन दिनों है फ़राग
نئی زمیں، نیا آسمان، نئی دنیا؛ سنا تو ہے کہ محبت کو ان دنوں ہے فراق۔
5
दिलों में दाग़-ए-मोहब्बत का अब यह आलम है
कि जैसे नींद में
डूबे
हों
पिछली रात चिराग़
دلوں میں داغِ محبت کا اب یہ عالم ہے کہ جیسے پچھلی رات کے چراغ نیند میں ڈوبے ہوں۔
6
फिराक़ बज़्म-ए-चिरागां है महफ़िल-ए-रिन्दां
सजे हैं पिघली हुई आग से छलकते अयाग़
چراگاں کی بزم میں رندوں کی محفل ایک فراق ہے؛ پاؤں پگھلی ہوئی آگ سے سجے ہیں اور چھلکتے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
