غزل

علموں بس کریں او یار (اِک الف)

علموں بس کریں او یار (اِک الف)
بلھے شاہ· Ghazal· 6 shers

یہ غزل ایک محبوب سے علم کی یاُق کرنا ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ صرف ایک 'الف' (حرف) کافی ہے۔ یہ طنزیہ انداز میں علم کی اہمیت پر سوال اٹھاتی ہے، اور بتاتی ہے کہ کس طرح لوگ کتابیں پڑھ کر اور علم کا دکھاوا کرکے فریب میں جیتے ہیں۔ آخر میں، یہ sugiere کرتی ہے کہ حقیقی علم صرف استاد کے پاس ہوتا ہے، جبکہ لوگ جھوٹے اور سچے کو ملا دیتے ہیں۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
علموں بس کریں او یار اِکو الف تیرے درکار
علمون بس کری او یار ایک الف تیرے درکار
2
علم نہ آوے وچ شمار جاندی عمر، نہیں اعتبار اِکو الف تیرے درکار علموں بس کریں او یار
وہ علم جس کا شمار نہیں، وہ عمر ضائع ہے، اور تیری زندگی کبھی حاصل نہیں ہو گی۔ اگر تجھے بس ایک حرف چاہیے، تو اے دوست، علم کو ہی اپنا مقصد بنا۔
3
پڑھ پڑھ، لکھ لکھ لدیں ڈھیر ڈھیر کتاباں، چوفیر کردے چانن، وچ انھیر پچھو: "راہ؟" تے خبر نہ ستر
پڑھ پڑھ، لکھ لکھ لادیں ڈھیر، ڈھیر کتاباں، چُھ پھیر۔ کر دےے چناں، وچ اُنھیر۔ پچھو: “رہ؟” تے خبر ن ستر۔
4
پڑھ پڑھ شیخ مشائخ کہاویں الٹے مسئلے گھروں بناویں بےعلماں نوں لٹ لٹ کھاویں جھوٹھے سچے کریں اقرار
پڑھ پڑھ کے شیخ مشائخ کھاوندے ہیں، الٹے مسئلے گھروں بتا دیتے ہیں۔ بے علم لوگوں کو لوٹ لوٹ کھاوندے ہیں، جھوٹے سچے کرائیں اقر۔
5
پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں اُچیاں بانگاں چانگھاں ماریں منبر تے چڑھ وعظ پکاریں کیتا تینوں علم خوار
جتنی نماز کے بعد نماز گزرتی ہے، اچیان، بنگاں اور مری کو بھلا دیا جاتا ہے۔ جب منبر سے اذان کی آواز گونجتی ہے، تو تینوں قسم کے علم کو بھلا دیا جاتا ہے۔
6
جد میں سبق عشق دا پڑھیا دریا دیکھ وحدت دا وڑیا گھمن گھیریں دے وچ اڑیا شاہ عنایت لایا پار
محبت کے سمندر سے میں نے ایک سبق سیکھا، دریا کے بہاؤ میں وحدت دیکھنا۔ گھومنا گھیرنا ایک پاک بلندی پیدا کرتا ہے، جب شاہ انیات نے پار لگایا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.