غزل
Ilmoun Bas Kari O-Yaar (Aik Alif)
Ilmoun Bas Kari O-Yaar (Aik Alif)
یہ غزل ایک محبوب سے علم کی یاُق کرنا ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ صرف ایک 'الف' (حرف) کافی ہے۔ یہ طنزیہ انداز میں علم کی اہمیت پر سوال اٹھاتی ہے، اور بتاتی ہے کہ کس طرح لوگ کتابیں پڑھ کر اور علم کا دکھاوا کرکے فریب میں جیتے ہیں۔ آخر میں، یہ sugiere کرتی ہے کہ حقیقی علم صرف استاد کے پاس ہوتا ہے، جبکہ لوگ جھوٹے اور سچے کو ملا دیتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
Ilm n awey wich shumar
Jandi umer, Nahi aytebar
Eko Alif terey darkar
Ilmoun bas kari oo yaar
وہ علم جس کا شمار نہیں، وہ عمر ضائع ہے، اور تیری زندگی کبھی حاصل نہیں ہو گی۔ اگر تجھے بس ایک حرف چاہیے، تو اے دوست، علم کو ہی اپنا مقصد بنا۔
3
Parh parh, likh likh ladain dher
Dher kitabaan, cho pheyr
Kerdey chanan, Wich unheyr
Pecho: “Rah?” tey khabar n satar
پڑھ پڑھ، لکھ لکھ لادیں ڈھیر، ڈھیر کتاباں، چُھ پھیر۔ کر دےے چناں، وچ اُنھیر۔ پچھو: “رہ؟” تے خبر ن ستر۔
4
Parh perh shekh mashaikh khawein
Ultey masley gharoon bata dein
Bey ilmaan noon lut lut khawein
Jhotey Sachey karain aqrqr
پڑھ پڑھ کے شیخ مشائخ کھاوندے ہیں، الٹے مسئلے گھروں بتا دیتے ہیں۔ بے علم لوگوں کو لوٹ لوٹ کھاوندے ہیں، جھوٹے سچے کرائیں اقر۔
5
Parh parh nafal namaz guzarien
Achian bangaan changha mari
Manber tey chaRRh waaz pukarein
Keeta teeno ilm khawar
جتنی نماز کے بعد نماز گزرتی ہے، اچیان، بنگاں اور مری کو بھلا دیا جاتا ہے۔ جب منبر سے اذان کی آواز گونجتی ہے، تو تینوں قسم کے علم کو بھلا دیا جاتا ہے۔
6
Jed main sabaq Ishq da parhaya
Derya dekh Wahedat da warria
Ghuman gheraan dey wich uRRia
Shah Inayat laya paar
محبت کے سمندر سے میں نے ایک سبق سیکھا، دریا کے بہاؤ میں وحدت دیکھنا۔ گھومنا گھیرنا ایک پاک بلندی پیدا کرتا ہے، جب شاہ انیات نے پار لگایا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
