غزل
اتیکرمی سے غزل
اتیکرمی سے غزل
یہ غزل کسی ایک خاص موضوع پر مرکوز نہیں بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں اور انسانی جذبات کے پیچیدہ تانے بانے کو بناتی ہے۔ اس میں شاعر نے زندگی کے اتار چڑھاؤ اور وقت کے مسلسل بہاؤ پر گہری سوچ کا اظہار کیا ہے، جو ایک کونیاتی انسانی تجربے کو بیان کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
અણગમાને અતિક્રમી તે ગઝલ.
ને પ્રણયમાં પરિણમી તે ગઝલ.
جو ناپسندیدگی سے بالاتر ہے، وہ غزل۔اور جو محبت میں ڈھل جائے، وہ غزل۔
جو ناپسندیدگی سے بالاتر ہے، وہ غزل۔اور جو محبت میں ڈھل جائے، وہ غزل۔
2
લાજના ભાવથી નમી તે ગઝલ.
જે પ્રથમ દૃષ્ટિએ ગમી તે ગઝલ.
لج کے بھاؤ سے جھکی وہ غزل۔ جو پہلی نظر میں پسند آئی وہ غزل۔
یہ وہی غزل ہے جو حیا کے جذبے سے جھکی اور وہی غزل ہے جو پہلی نظر میں ہی پسند آ گئی۔
3
આંખમાં આંજી સ્નેહનો સુરમો,
રાતભર સોગઠે રમી તે ગઝલ.
آنکھوں میں آنج کر محبت کا سرمہ، رات بھر چوسر کھیلی وہ غزل۔
اُس غزل نے آنکھوں میں محبت کا سرمہ لگا کر، پوری رات چوسر کھیلی۔
4
શેરીએ શેરીમાં અજંપાની-
આંધળી ભીંત થઈ ભમી તે ગઝલ.
گلی گلی میں بے چینی کی-اندھی دیوار بن گھومی وہ غزل۔
یہ غزل ہر گلی میں بے چینی کی اندھی دیوار بن کر گھومتی رہی۔ یہ بے مقصد بھٹکتی رہی، بے چینی کے پھیلے ہوئے احساس کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھی۔
5
ચોતરફ મૌન મૌનની વચ્ચે,
એક તલસાટ કાયમી તે ગઝલ.
ہر سو خاموشی خاموشی کے بیچ، ایک دائمی تڑپ، وہی غزل۔
ہر سو خاموشی خاموشی کے بیچ، ایک دائمی تڑپ، وہی غزل۔
6
તેજ રૂપે કદી તિમિર રૂપે,
મેઘલી મીટથી ઝમી તે ગઝલ.
تیج روپ کبھی تِمِر روپ میں،میغلی نظر سے جھمی وہ غزل۔
وہ غزل کبھی روشنی تو کبھی اندھیرے کی صورت میں، ایک دھندلی نظر سے چمک اٹھی۔
7
નિત સમય જેમ ઊગતી જ રહી,
અસ્તમાં પણ ન આથમી તે ગઝલ.
نِت سمے جوں ابھرتی ہی رہی، غروب میں بھی نہ ڈوبی وہ غزل۔
وہ غزل مسلسل سورج کی طرح ابھرتی رہی اور غروب ہونے پر بھی کبھی نہیں ڈوبی۔
8
દૃષ્ટિ મળતાં જ પાંપણો મધ્યે,
ઊગે સંબંધ રેશમી તે ગઝલ.
دیکھتے ہی پلکوں کے مابین،ابھرے رشتہ ریشمی وہ غزل۔
جب پلکوں کے درمیان نظریں ملتی ہیں، ایک ریشمی تعلق ابھرتا ہے۔ یہی نازک بندھن وہ غزل ہے۔
9
જિન્દગીની કે જાંફિશાનીની,
હોય જે વાટ જોખમી તે ગઝલ.
زندگی کی یا جاں فشانی کی، ہو جو راہ پُرخطر، وہ غزل۔
غزل وہ خطرناک راستہ ہے، چاہے وہ زندگی کا ہو یا جانفشانی کا۔
10
એ તો છે ચીજ સર્વ મોસમની,
નિત્ય લાગે જે મોસમી તે ગઝલ.
یہ تو ہے چیز ہر موسم کی،جو لگے سدا موسمی، وہ غزل۔
غزل ایک ایسی تخلیق ہے جو ہر موسم سے تعلق رکھتی ہے، پھر بھی یہ ہمیشہ موجودہ اور تازہ محسوس ہوتی ہے، گویا ہمیشہ موسم میں ہو۔
11
એમની એ જ છે કસોટી ખરી,
દિલને લાગે જે લાજમી તે ગઝલ.
ان کی وہی ہے کسوٹی کھری،دل کو جو لگے لازمی، وہ غزل۔
جو دل کو ضروری لگے، وہی غزل ہے۔ یہی اس کی سچی کسوٹی ہے۔
12
માલમીને ય એ તો પાર કરે:
માલમીની ય માલમી તે ગઝલ.
ناخدا کو بھی وہ پار کرے، ناخدا کی بھی ناخدا ہے وہ غزل۔
ناخدا کو بھی وہ پار کرے، ناخدا کی بھی ناخدا ہے وہ غزل۔
13
લીટી એકાદ નીરખી ‘ઘાયલ’,
હલબલી જાય આદમી તે ગઝલ.
ایک آدھ سطر دیکھ کر 'غائل'،ہل بلی جائے آدمی وہ غزل۔
ایک آدھ سطر 'غائل' کی دیکھ کر ہی، انسان اس غزل سے ہل جاتا ہے اور متاثر ہوتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
