ناخدا کو بھی وہ پار کرے، ناخدا کی بھی ناخدا ہے وہ غزل۔
“It ferries even the navigator across; The navigator's own navigator is that Ghazal.”
— امرت گھائل
معنی
ناخدا کو بھی وہ پار کرے، ناخدا کی بھی ناخدا ہے وہ غزل۔
تشریح
یہ غزل اس بات کا اظہار ہے کہ فن کی طاقت کتنی عروج پر ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو ہر حدود کو پار کر جاتی ہے، اور سننے والے کے دل کو چھو جاتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
