تیج روپ کبھی تِمِر روپ میں،میغلی نظر سے جھمی وہ غزل۔
“Sometimes as light, sometimes as darkness,From a misty gaze, that ghazal shimmered forth.”
— امرت گھائل
معنی
وہ غزل کبھی روشنی تو کبھی اندھیرے کی صورت میں، ایک دھندلی نظر سے چمک اٹھی۔
تشریح
یہ شعر ایک نظر کے جادو اور اس کے دوغلے پن کو بیان کرتا ہے۔ وہ غزل.... جو ایک بادل کی نظر سے جھمی تھی، وہ کبھی چمکتی تھی، اور کبھی گہرے سائے میں چھپی رہتی تھی!
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
