Sukhan AI
غزل

اکھا بھگت 28

اکھا بھگت 28
اکھا بھگت· Ghazal· 6 shers

یہ غزل اکھا بھگت کی ہے اور انا کی نوعیت کو سمجھانے کے لیے لوہے کا استعارہ استعمال کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ جس طرح کچے لوہے کو ڈھالنا پڑتا ہے، اسی طرح انا پر قابو پانا یا اسے "ختم" کرنا چاہیے۔ ایک بار جب انا کا بوجھ ہٹ جاتا ہے، تو فرد آزادی حاصل کر لیتا ہے، اور دنیاوی وجود کا سمندر ایک پرسکون اور خدائی سمندر میں بدل جاتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
અહં તારૂપી લોહ છે સદા ઘાટ થયા વિના રહે કદા;
میرا انا ہمیشہ تیرے روپ میں لوہے کی مانند ہے۔ یہ کبھی شکل اختیار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
2
અખા અહં તા લોઢું માર્ય મર્યા પછી તે તરશે વાર્ય.
اکھا، لوہے کے مانند اس انا کو مار ڈالو۔ اس کی موت کے بعد ہی انسان پانی پر تیر پائے گا۔
3
જે જળમાં લોહ બુડી જતું તે ઉપર દીસે રમતું;
وہ لوہا جو پانی میں ڈوب جاتا تھا، اب اس کی سطح پر کھیلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
4
તેમ ભવસાગર હરિસાગર થયો જ્યારે આપોપાનો ભારજ ગયો;
جب اپنی ذات کا بوجھ اتر گیا، تب زندگی کا سمندر خدا کا سمندر بن گیا۔
5
અખા મધ્યથો જા તું ટળી બંધ ને મોક્ષ થકી ક્ષમા મળી.
اَکھا، جب تم درمیانی راہ سے ہٹ جاتے ہو، تو تمہیں بندھن اور موکش دونوں سے معافی مل جاتی ہے۔
6
અખા બ્રહ્મ છે બાધું નામ તે મધ્યે અળગાં અળગાં ગામ;
اے اکھا، برہم ہی تمام نام ہے۔ اسی کے اندر گاؤں الگ الگ ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.