غزل

کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک

کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 6 shers· radif: कहाँ तक

اس طنزیہ غزل میں اکبر الہ آبادی اصلاحی اور فکری دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے ظریفانہ انداز میں تنقید کرتے ہیں۔ وہ روایتی دبدبے کے مقابلے عقل، منطق اور انفرادی شعور کی اہمیت کو پرلطف اور کاٹ دار لہجے میں اجاگر کرتے ہیں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
क्या जानिए सय्यद थे हक़ आगाह कहाँ तक समझे न कि सीधी है मिरी राह कहाँ तक
کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک سمجھے نہ کہ سیدھی ہے مری راہ کہاں تک
کیا معلوم کہ سید سچائی سے کس حد تک واقف تھے، کیونکہ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ میرا راستہ کتنا سیدھا ہے۔
2
मंतिक़ भी तो इक चीज़ है ऐ क़िबला ओ काबा दे सकती है काम आप की वल्लाह कहाँ तक
منطق بھی تو اک چیز ہے اے قبلہ و کعبہ دے سکتی ہے کام آپ کی واللہ کہاں تک
اے قبلہ و کعبہ، منطق اور دلیل بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے؛ محض آپ کا واللہ (قسمیں کھانا) آخر کہاں تک کام دے سکتا ہے۔
3
अफ़्लाक तो इस अहद में साबित हुए मादूम अब क्या कहूँ जाती है मिरी आह कहाँ तक
افلاک تو اس عہد میں ثابت ہوئے معدوم اب کیا کہوں جاتی ہے مری آہ کہاں تک
اس زمانے میں تو آسمانوں کا وجود ہی نہ ہونے کے برابر ثابت ہو چکا ہے، اب میں کیا کہوں کہ میری آہ کہاں تک جاتی ہے۔
4
कुछ सनअत ओ हिरफ़त पे भी लाज़िम है तवज्जोह आख़िर ये गवर्नमेंट से तनख़्वाह कहाँ तक
کچھ صنعت و حرفت پہ بھی لازم ہے توجہ آخر یہ گورنمنٹ سے تنخواہ کہاں تک
صنعت و حرفت پر بھی توجہ دینا ضروری ہے، آخر کب تک حکومت کی تنخواہ پر گزارا کیا جائے گا۔
5
मरना भी ज़रूरी है ख़ुदा भी है कोई चीज़ ऐ हिर्स के बंदो हवस-ए-जाह कहाँ तक
مرنا بھی ضروری ہے خدا بھی ہے کوئی چیز اے حرص کے بندو ہوس جاہ کہاں تک
موت کا آنا بھی طے ہے اور خدا بھی ایک حقیقت ہے، اے لالچ کے بندو، عہدے اور مرتبے کی یہ ہوس آخر کب تک رہے گی؟
6
तहसीन के लायक़ तिरा हर शेर है 'अकबर' अहबाब करें बज़्म में अब वाह कहाँ तक
تحسین کے لائق ترا ہر شعر ہے اکبرؔ احباب کریں بزم میں اب واہ کہاں تک
اے اکبر! تمہارا ہر شعر تعریف کے لائق ہے، آخر محفل میں دوست کب تک اور کہاں تک واہ واہ کرتے رہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.