“Death too is inevitable, and God is a reality after all; O slaves of greed, how far will this lust for status hold you in thrall?”
موت کا آنا بھی طے ہے اور خدا بھی ایک حقیقت ہے، اے لالچ کے بندو، عہدے اور مرتبے کی یہ ہوس آخر کب تک رہے گی؟
اس شعر میں شاعر دنیاوی جاہ و جلال اور لالچ کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے والے انسانوں کو زندگی کی اصل حقیقت کا آئینہ دکھاتے ہیں۔ انسان اکثر اقتدار اور رتبے کے نشے میں خود کو لافانی سمجھ بیٹھتا ہے، حالانکہ موت ایک اٹل سچائی ہے اور خدا کے سامنے جوابدہی یقینی ہے۔ یہ ایک خیر خواہانہ تنبیہ ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہوس اور نمائش کی یہ پیاس کبھی نہیں بجھتی، اس لیے دل کو اس فریب سے نکالنا ہی دانشمندی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
