منطق بھی تو اک چیز ہے اے قبلہ و کعبہ دے سکتی ہے کام آپ کی واللہ کہاں تک

“Logic, too, is a thing of worth, O venerable guide; / How far, by God, can your mere oaths decide?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

اے قبلہ و کعبہ، منطق اور دلیل بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے؛ محض آپ کا واللہ (قسمیں کھانا) آخر کہاں تک کام دے سکتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے بڑی شگفتہ بیانی اور طنز کے ساتھ اندھی تقلید پر عقل و استدلال کو ترجیح دی ہے۔ ’قبلہ و کعبہ‘ جیسے پروقار القاب کے پردے میں دراصل واعظ کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ خالی قسمیں کھانے سے بات نہیں بنتی۔ شاعر کا مدعا یہ ہے کہ بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے صرف عقیدت کا سہارا کافی نہیں، بلکہ منطق اور دلیل کی کسوٹی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.