“Every verse of yours is worthy of high praise, O Akbar; how long can friends keep crying 'Bravo!' in the gathering?”
اے اکبر! تمہارا ہر شعر تعریف کے لائق ہے، آخر محفل میں دوست کب تک اور کہاں تک واہ واہ کرتے رہیں۔
اس شعر میں اکبر الہ آبادی نے تعلی یعنی خود ستائی کا مضمون بڑے ہی شوخ اور ظریفانہ انداز میں باندھا ہے۔ وہ ہنستے کھیلتے کہتے ہیں کہ ان کا ہر شعر اس قدر لاجواب ہے کہ محفل میں موجود یار دوست تعریف کرتے کرتے تھک گئے ہیں اور ان کی زبانوں پر ’واہ واہ‘ کہتے کہتے تھکن طاری ہونے لگی ہے۔ یہ شعر روایتی مشاعرے کی زندہ دل فضا اور شاعر کی پُرلطف خود اعتمادی کی نہایت خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
