“The celestial spheres in this age are proven to be mere void; now who can tell how far my sigh ascends?”
اس زمانے میں تو آسمانوں کا وجود ہی نہ ہونے کے برابر ثابت ہو چکا ہے، اب میں کیا کہوں کہ میری آہ کہاں تک جاتی ہے۔
کلاسیکی شاعری میں مانا جاتا تھا کہ عاشق کی آہ آسمان کی چھت تک جا پہنچتی ہے، مگر شاعر مسکرا کر نیا نکتہ لاتا ہے کہ اب تو معلوم ہو چکا ہے کہ فلک کوئی ٹھوس چیز نہیں بلکہ محض ایک لامتناہی خلا ہے۔ اب جب درد کی راہ روکنے کے لیے کوئی حد ہی باقی نہیں رہی، تو شاعر اداسی اور حیرت سے سوچتا ہے کہ اس کے دل سے نکلی آہ اس بے کنار وسعت میں کہاں تک جائے گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
