دل کوں ہوتی ہے سجن، بیتابی — ولی دکنی
“Beloved, it stirs such restlessness within my heart; pray, do not run your hands through your tresses so.”
معنی
اے محبوب، میرے دل کو بے چینی ہوتی ہے، اس لیے اپنی زلفوں کو ہاتھ مت لگایا کرو۔
تشریح
اس خوبصورت اور دکنی مزاج کے شعر میں عاشق اپنے محبوب سے بڑے پیار اور بے قراری سے التجا کر رہا ہے۔ اردو شاعری میں زلفوں کی چھیڑ چھاڑ دلوں کو الجھانے اور تڑپانے کا استعارہ ہے، لہٰذا محبوب کا یوں لاپرواہی سے بالوں میں ہاتھ پھیرنا عاشق کا قرار لوٹ لیتا ہے۔ یہ معصومانہ اور میٹھی روک ٹوک اصل میں محبوب کی سحر انگیز اداؤں پر مر مٹنے کا ایک دلکش اعتراف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
