مجھ کو ترشی کا ہے پرہیز صنم — ولی دکنی

مجھ کو ترشی کا ہے پرہیز صنم چین ابرو کوں دکھایا نہ کرو

“I must abstain from anything sour, my love; do not display the knitted frown of your brow.”

— ولی دکنی

معنی

اے محبوب، مجھے کھٹی چیزوں سے پرہیز ہے، اس لیے اپنے چہرے اور بھنوؤں پر شکن مت لایا کرو۔

تشریح

یہاں شاعر نے بڑی شوخی اور شگفتگی کے ساتھ اپنے محبوب سے پیار بھری دل لگی کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے تو ہر کھٹی چیز یعنی 'ترشی' سے پرہیز کا حکم ہے، اس لیے اپنے ماتھے پر روٹھنے کی شکنیں مت سجایا کرو۔ محبوب کے تیور اور غصے کو 'کھٹاس' سے تشبیہ دے کر شاعر نے اُسے منانے کا ایک بڑا دلکش اور مسکراہٹ بھرا انداز چنا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.