حق پرستی کا اگر دعویٰ ہے — ولی دکنی

حق پرستی کا اگر دعویٰ ہے بے گناہاں کوں ستایا نہ کرو

“If devotion to the truth is what you claim, torment not the innocent in its name.”

— ولی دکنی

معنی

اگر تم سچائی اور حق پرستی کا دعویٰ کرتے ہو، تو بے قصور اور معصوم لوگوں کو مت ستاؤ۔

تشریح

یہ شعر ان لوگوں کی کھوکھلی پارسائی پر ایک درد مندانہ چوٹ ہے جو خود کو سچائی اور دین کا علمبردار کہتے ہیں۔ شاعر فرماتے ہیں کہ اگر آپ کا دعویٰ حق پرستی کا ہے، تو پھر کسی معصوم اور بے گناہ کو تکلیف دینا آپ کے اس دعوے کو باطل کر دیتا ہے۔ سچی نیکی اور خدا ترسی کا سب سے بڑا ثبوت کمزوروں کی حفاظت اور ان کے ساتھ ہمدردی ہے، نہ کہ ان پر ستم ڈھانا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.