“I have won precedence over the nightingale, though in noble rank it commands two thousand.”
میں بلبل سے آگے نکل گیا ہوں اور اس پر سبقت لے گیا ہوں، اگرچہ وہ رتبے اور منصب میں دو ہزاری ہے۔
روایتی شاعری میں بلبل کو عشق و وفاداری کا سب سے معتبر استعارہ مانا گیا ہے، جسے شاعر نے مغل دربار کے کسی عالی رتبہ ’دو ہزاری‘ منصب دار جیسا بڑا درجہ دیا ہے۔ مگر عاشق کمالِ شوخی اور فخر سے دعویٰ کرتا ہے کہ سچی تڑپ اور جنون کے امتحاں میں وہ اس نامور پرندے کو بھی مات دے چکا ہے۔ یہ شعر انسان کے قلبی درد اور بے پناہ جذبے کو روایتی عشق پر برتری دینے کا ایک بے حد دلکش اور لطیف انداز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
