“By the grace of separation from you, my beloved, / The work of my weeping eyes flows ceaselessly on.”
اے محبوب، تمہاری جدائی کے فیض کی بدولت میری روتی ہوئی آنکھوں کا کام مسلسل جاری ہے۔
اس شعر میں ہجر کے الم کو بڑی دلکشی اور ایک میٹھے طنز کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ اے ساجن، یہ تیری جدائی ہی کی نوازش اور فیض ہے کہ میری روتی ہوئی آنکھوں کا کام مسلسل جاری ہے اور اشک تھمنے کا نام نہیں لیتے۔ فراق کے درد کو احسان مان لینا اور آنسوؤں کے بہاؤ کو ایک مستقل مشغلہ بنا لینا اس شعر کو کمال کی جذباتی گہرائی عطا کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
