غزل
عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توں
عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توں
اس غزل میں عاشق اپنے محبوب کو اپنے اشکوں اور شعلہ بار آہوں کے آئینے میں دل کے پوشیدہ راز دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ اپنے درد، بیقراری اور عشق کی حقیقت کو اپنے آنسوؤں کے ذریعے بےنقاب کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
आशिक़ के मुख पे नैन के पानी को देख तूँ
इस आरसी में राज़-ए-निहानी कूँ देख तूँ
عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توں
اس آرسی میں راز نہانی کوں دیکھ توں
عاشق کے چہرے پر آنکھوں کے آنسوؤں کو دیکھو اور اس آئینے میں چھپے ہوئے راز کو دیکھو۔
2
सुन बे-क़रार दिल की अवल आह-ए-शोला-ख़ेज़
तब इस हरफ़ में दिल के मआनी कूँ देख तूँ
سن بے قرار دل کی اول آہ شعلہ خیز
تب اس حرف میں دل کے معانی کوں دیکھ توں
پہلے اس بے قرار دل کی شعلہ برساتی ہوئی آہ سنو، اس کے بعد ہی ان الفاظ میں دل کے اصل معنی دیکھو۔
3
ख़ूबी सूँ तुझ हुज़ूर ओ शमा दम-ज़नी में है
उस बे-हया की चर्ब-ज़बानी कूँ देख तूँ
خوبی سوں تجھ حضور و شمع دم زنی میں ہے
اس بے حیا کی چرب زبانی کوں دیکھ توں
تمہارے سامنے وہ شمع اپنے حسن و خوبی کا دم بھر رہی ہے؛ ذرا اس بے حیا کی گستاخی اور چرب زبانی تو دیکھو۔
4
दरिया पे जा के मौज-ए-रवाँ पर नज़र न कर
अंझुवाँ की मेरे आ के रवानी कूँ देख तूँ
دریا پہ جا کے موج رواں پر نظر نہ کر
انجھواں کی میرے آ کے روانی کوں دیکھ توں
دریا پر جا کر بہتی ہوئی لہروں کو مت دیکھو، بلکہ یہاں آ کر میرے آنسوؤں کا بہاؤ دیکھو۔
5
तुझ शौक़ का जो दाग़ 'वली' के जिगर में है
बे-ताक़ती में उस की निशानी कूँ देख तूँ
تجھ شوق کا جو داغ ولیؔ کے جگر میں ہے
بے طاقتی میں اس کی نشانی کوں دیکھ توں
تیرے شوق اور تڑپ کا جو داغ ولی کے دل پر ہے، اس کی نشانی تو اس کی بے طاقتی اور بے بسی میں دیکھ۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
