इँद्री सिथिल भई केसो बिन ज्यों देही बिन सीस । आसा लगी रहत तनु श्वासा जीजो कोटि बरीस ॥

“Senseless have grown our limbs without Keshav, like a body bereft of its head; yet hope still clings to the breath in this frame, yearning to live on for millions of years.”

— سورداس
معنی

کرشن کے بغیر تمام حواس ایسے بے کار اور بے حس ہو گئے ہیں جیسے سر کے بغیر دھڑ۔ پھر بھی ان کے ملنے کی آس میں بدن میں سانسیں ٹکی ہوئی ہیں اور کروڑوں برس جینے کی تمنا لگی ہے۔

تشریح

یہ شعر فراق اور ہجر کی ایک دل دوز کیفیت بیان کرتا ہے، جہاں محبوب یعنی کیشو کے بنا تمام حواس یوں معطل اور بے جان ہو چکے ہیں جیسے سر کے بغیر کوئی دھڑ ہو۔ لیکن عشق کا کمال دیکھیے کہ محبوب کے پلٹ آنے کی ایک ننھی سی آس نے سانسوں کی ڈوری کو تھام رکھا ہے۔ دل میں ملن کی پیاس اتنی شدید ہے کہ عاشق اپنے محبوب کے دیدار کے لیے کروڑوں برس تک بھی جینے اور یہ ہجر سہنے کو تیار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.