“What shall I say? Out of sheer rage, I no longer go to play; Time and again they taunt me asking: who is your mother, and who your sire?”
میں کیا کہوں، اسی غصے کے مارے میں کھیلنے نہیں جاتا؛ وہ بار بار مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تمہاری ماں کون ہے اور تمہارا باپ کون ہے۔
یہ شعر بچپن کی اس معصوم خفگی اور لاڈ کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے جہاں ننھے کرشن اپنی ماں یشودا کے سامنے روٹھ کر شکوہ کر رہے ہیں۔ ساتھی بچے کھیل کے دوران بار بار ان کے اصل ماں باپ کا طعنہ دے کر انہیں چھیڑتے ہیں، جس سے دل برداشتہ ہو کر انہوں نے کھیلنے جانے سے ہی انکار کر دیا ہے۔ اس ناراضگی میں ایک بچے کی پاکیزہ انا اور ماں کی محبت پر اس کا اٹوٹ بھروسا جھلکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
