غزل
بوجھت شیام کون تو گوری
بوجھت شیام کون تو گوری
اس کلام میں شری کرشن اور رادھا کی پہلی ملاقات کا انتہائی دلکش اور شوخ مکالمہ پیش کیا گیا ہے۔ کرشن تجسس سے رادھا کا تعارف پوچھتے ہیں، اور رادھا حاضر جوابی و چھیڑ چھاڑ کے ساتھ نند کے چور بیٹے کی شہرت کا ذکر کر کے جواب دیتی ہیں۔
Source: Sankshipt Sursagar (Indian Press, 1924) · HI
نغمہ سنیں
1
बूझत स्याम कौन तू गोरी ।
कहाँ रहित काकी है बेटी देखी नहीं कहूँ ब्रज खोरी ॥
کرشن پوچھتے ہیں کہ اے گوری لڑکی، تم کون ہو؟ تم کہاں رہتی ہو، کس کی بیٹی ہو اور میں نے تمہیں کبھی برج کی گلیوں میں کیوں نہیں دیکھا؟
2
काहेको हम ब्रजतन आवति खेलति रहति आपनी पौरी ।
सुनति रहति श्रवणनि नँद ढोटा करत रहत माखन दधि चोरी ॥
ہم برج کی طرف کیوں آئیں، ہم تو اپنے ہی دروازے پر کھیلتے رہتے ہیں؛ بس اپنے کانوں سے یہی سنتے رہتے ہیں کہ نند کا بیٹا مکھن اور دہی چراتا پھرتا ہے۔
3
तुम्हरो कहा चोरि हम लेहैं खेलन चलौ संग मिलि जोरी ।
सूरदास प्रभु रसिक सिरोमणि बातन भुरइ राधिका भोरी ॥
کرشن کہتے ہیں کہ ہم بھلا تمہارا کیا چرا لیں گے، آؤ مل کر جوڑی بنا کر کھیلنے چلیں۔ سورداس کہتے ہیں کہ رَسیاؤں کے سرتاج پربھو نے اپنی باتوں سے بھولی بھالی رادھیکا کو بہلا لیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
