“A supreme savor yielding boundless, ceaseless contentment to the soul; Beyond the reach of mind and speech, known only to the one who attains it.”
یہ اعلیٰ ترین لطف مسلسل بے پایاں سکون بخشتا ہے؛ یہ من اور زبان کی دسترس سے باہر ہے اور اسے صرف وہی جان سکتا ہے جو اسے پا لے۔
یہ شعر عشقِ حقیقی اور باطنی معرفت کے اس سرور کو بیان کرتا ہے جسے لفظوں کے دائرے میں قید کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایک ایسی لازوال تسکین ہے جو روح کو ہمیشہ کے لیے سیراب کر دیتی ہے، مگر عقل اور گفتار کی پہنچ سے بہت دور رہتی ہے۔ جس طرح ذائقے کی مٹھاس صرف محسوس کی جا سکتی ہے مگر زبان سے پوری طرح بیان نہیں ہوتی، بالکل اسی طرح اس روحانی لذت کی حقیقت وہی جانتا ہے جو اسے اپنے دل میں پا لے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
