अविगत गति कछु कहत न आवै । ज्यों गूँगे मीठे फलको रस अंतर्गतही भावे ॥

“The nature of the Unmanifest defies all speech and art, like a mute savoring sweet fruit solely within the heart.”

— سورداس
معنی

نادیدہ اور بے شکل خدا کی کیفیت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، بالکل اسی طرح جیسے کوئی گونگا انسان میٹھے پھل کا ذائقہ صرف اندر ہی اندر محسوس کرتا ہے لیکن زبان سے بیان نہیں کر سکتا۔

تشریح

سورداس جی نے اِس شعر میں ذاتِ حق کے غیر مرئی روپ کی معراج کو کمال سادگی اور خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اُس حقیقتِ مطلقہ کی کیفیت کو لفظوں میں سمیٹنا ممکن نہیں، بالکل اُس گونگے شخص کی طرح جو میٹھے پھل کے ذائقے سے اپنے دل ہی دل میں سرشار تو ہوتا ہے مگر زبان سے اُس کی مٹھاس کا اظہار نہیں کر سکتا۔ اِس کا گہرا مفہوم یہی ہے کہ باطنی سرور اور عرفانِ الٰہی الفاظ کی نمائش کا محتاج نہیں، بلکہ روح کی پنہاں اور خاموش کیفیت کا نام ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.