“Whoever beheld that stature like doom fell wounded and slain; / From head to toe, this youth is truly Solomon's blade.”
جس کسی نے بھی اس کا قیامت خیز قد دیکھا وہ گھائل ہو گیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے یہ لڑکا سر سے پاؤں تک سلیمانی تلوار ہی ہے۔
اس شعر میں محبوب کے حسن اور دلکش قد و قامت کی قاتلانہ ادا کو نہایت خوبصورتی سے باندھا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس نے بھی اس کا قیامت خیز سراپا دیکھا، وہ گھائل ہو کر تڑپ اٹھا، گویا وہ لڑکا سر سے لے کر پاؤں تک حضرت سلیمان کی طلسماتی تلوار ہے جس کی کاٹ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ یہ حسن کے قہر اور اس کے سحر انگیز اثر کا ایک والہانہ شاعرانہ اعتراف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
