میں اپنا جان و دل قرباں کروں اوس پر سیتی ناجیؔ جسے دیکھیں سیں ہوئے عید رمضانی ہے یہ لڑکا

“I would surrender my very heart and life for him, O Naji; a mere glimpse of this youth brings the blessed dawn of Ramadan's Eid.”

— شاکر ناجی
معنی

اے ناجی، میں اس پر اپنی جان اور دل قربان کرتا ہوں؛ یہ لڑکا ایسا ہے جسے دیکھنے ہی سے عیدِ رمضان جیسی خوشی مل جاتی ہے۔

تشریح

ناجیؔ اِس شعر میں محبوب کے دلکش دیدار کو ماہِ رمضان کی طویل آزمائش کے بعد طلوع ہونے والی عید کی نوید قرار دے رہے ہیں۔ جس طرح عید کا چاند نظر آتے ہی ہر سو مسرت، مٹھاس اور جشن کا سماں بندھ جاتا ہے، اسی طرح اِس خوب رو نوجوان کی ایک جھلک عاشق کے دل کو بے پناہ راحت بخشتی ہے۔ یہی والہانہ جذبہ ہے جس کی بدولت شاعر اپنے محبوب کے ایک نظارے پر اپنی جان اور دل دونوں قربان کرنے کو تیار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.