“Beholding his beauty, the fair hid their faces, like stars fading at dawn; He shines in the likeness of the sun, so radiant is this boy.”
اس کا حسن دیکھ کر تمام خوبصورت لوگ ستاروں کی طرح چھپ گئے؛ یہ لڑکا سورج کی طرح چمکتا ہے اور بے حد نورانی ہے۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے بے پناہ حسن کو سورج کی تابانی سے تشبیہ دی ہے، جس کے سامنے ہر دوسرا حسن ماند پڑ جاتا ہے۔ جیسے صبح ہوتے ہی سورج کے جاہ و جلال کے آگے ستارے چھپ جاتے ہیں، بالکل اسی طرح اس لڑکے کے نورانی چہرے کو دیکھ کر زمانے کے تمام خوب رو شرما کر اوجھل ہو گئے۔ یہ حسن کی ایک ایسی دلکش اور والہانہ تعریف ہے جو محبوب کو سب سے منفرد اور لازوال بنا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
