“A scarlet turban upon his head, his mouth like a vibrant bud; the very springtide of desire, a Badakhshan ruby is this boy.”
اس کے سر پر لال پگڑی ہے اور اس کا منہ ایک رنگین کلی کی طرح ہے؛ یہ لڑکا آرزوؤں کی بہار اور بدخشاں کا لعل ہے۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے سراپا اور نوخیز حسن کی بڑی دلکش تصویر کشی کی ہے۔ سر پر سجی لال پگڑی اور غنچے جیسے نازک لب مل کر ایسا جادو جگاتے ہیں کہ نگاہیں ٹھہر جاتی ہیں۔ شاعر محبوب کو بدخشاں کے نایاب لعل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ خوبرو لڑکا محض حسین نہیں، بلکہ دل کی ہر تمنا اور آرزو کی کھلتی ہوئی بہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
