“Beholding the luminous clarity of your cheek, the eye of the wise turns away from the pearl.”
تمہارے رخسار کی چمک اور صفائی دیکھ کر کسی دانا شخص کی نظر موتی کی طرف نہیں جاتی۔
شاعر اپنے محبوب کے رخسار کی شفافیت اور نور کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس حسن کے سامنے موتی کی آب و تاب بھی ماند پڑ گئی ہے۔ ایک دانا اور پرکھ رکھنے والی نظر، جو ہمیشہ نایاب گوہر کی قدر جانتی ہے، وہ بھی محبوب کے چہرے کی تابانی دیکھ کر موتیوں سے نگاہیں ہٹا لیتی ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ حقیقی حسن کی چمک اور دلکشی کے آگے دنیا کی قیمتی ترین شے بھی بے وقعت معلوم ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
