“Impossible it is to lure them into love's own snare; toward shining gold alone inclines the heart of idols fair.”
ان کا جال میں پھنسنا ناممکن ہے، کیونکہ ان حسینوں کا دل صرف دولت کی طرف مائل ہوتا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے محبوب کی بے نیازی اور دنیا کی مادیت پرستی پر بڑی خوبصورت اور تلخ چوٹ کی ہے۔ روایتی طور پر سنگ دل حسینوں کو 'بت' کہا جاتا ہے، اور شاعر کہتا ہے کہ انہیں محبت کے جال میں الجھانا نا ممکن ہے کیونکہ وہ جذبات کے نہیں بلکہ صرف زر و دولت کے قائل ہیں۔ یہ عاشق کی وہ دل گرفتہ شکایت ہے جہاں خلوص کی سادگی پر دنیاوی چمک دمک بازی لے جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
