لیتے ہیں اہل جنوں کیا کیا تصور کے مزے آنکھ سے پریوں کو دیکھا بارہا اچھی طرح

“What wondrous joys of fantasy the crazed lovers prize; / Full many a time they have beheld the fairies with their eyes.”

— نظم طباطبائی
معنی

دیوانے لوگ اپنے تصور اور خیال میں کیا خوب لطف پاتے ہیں کہ جیسے انہوں نے بار بار پریوں کو اپنی آنکھوں سے اچھی طرح دیکھا ہو۔

تشریح

یہ شعر اہل جنوں یعنی سچے عاشقوں کی قوتِ تخیل اور تصور کا ایک خوبصورت جشن ہے۔ عام دنیا جن پریوں کو محض داستانوں کی بات سمجھتی ہے، جنونِ عشق میں ڈوبے لوگ اپنے پاکیزہ خیال کے زور پر اُنہیں اپنی آنکھوں کے سامنے بار بار مجسم دیکھ لیتے ہیں۔ شاعر دراصل یہ سمجھا رہے ہیں کہ جب دل میں عشق کی بے خودی ہو، تو باطن کا تصور ہی سب سے سچی اور پرلطف حقیقت بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.