“Her silence itself rings out the herald's cry to stay away; I do not say the stricken lover's state is faring well.”
اس کی خاموشی دور رہنے کی پکار دے رہی ہے، اور میں یہ نہیں کہتا کہ مصیبت میں گرفتار 'نظم' اچھی حالت میں ہے۔
قدیم زمانے میں بادشاہوں کی آمد پر چوبدار 'دور باش' یعنی 'پیچھے ہٹو' کی پکار لگا کر لوگوں کو دور کیا کرتے تھے۔ شاعر اپنے محبوب کی خاموشی کو اسی شاہی صدا سے تشبیہ دے رہا ہے جو بغیر کچھ کہے عاشق کو دوری اور جدائی کا پروانہ تھما رہی ہے۔ محبوب کی اس سرد مہری اور بے رخی کے بعد عاشق کا حال سنبھلنے کا نہیں، اس لیے 'نظم' افسردہ لہجے میں اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی حالت اب بالکل ٹھیک نہیں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
