سیکھ لے گی بل کی لینا تا کمر آنے تو دو بل ابھی کرتی نہیں زلف دوتا اچھی طرح

“Let them reach down to her waist, they will learn each artful twist; as yet, these braided tresses have not learned to truly curl.”

— نظم طباطبائی
معنی

ان دہری زلفوں کو ذرا کمر تک لمبا تو ہونے دو، پھر یہ بل کھانا سیکھ جائیں گی؛ ابھی ان میں ٹھیک سے خم یا بل نہیں آئے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں محبوب کے نوخیز حسن اور اس کے بھولپن کو زلف کے دلکش استعارے میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر مسکرا کر کہتا ہے کہ ابھی محبوب کی ان دوہری زلفوں نے دلوں کو جکڑنے اور خم کھانے کا کمال پوری طرح نہیں سیکھا۔ ذرا ان گیسوؤں کو دراز ہو کر کمر تک تو پہنچنے دیجیے، جیسے جیسے شباب نکھرے گا، یہ زلفیں خود بخود دلوں کو شکار کرنے اور بل کھانے کے سارے فن سیکھ جائیں گی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.