“Those who seek mere outward form care nothing for inner grace; All they desire are charming airs, and a truly lovely face.”
ظاہری خوبصورتی کے شائقین کو اچھے کردار سے کوئی غرض نہیں ہوتی، انہیں بس مکمل طور پر ایک خوبصورت چہرہ اور دلکش ادا چاہیے۔
اس شعر میں شاعر نے ظاہر اور باطن کے فرق کو بڑی سادگی اور گہرے طنز کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ صرف ظاہری حسن و جمال کے دلدادہ ہیں، انہیں کسی کے اچھے اخلاق یا نیک سیرت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ ان سطحی مزاج لوگوں کے لیے دل کی سچائی کی کوئی قیمت نہیں، انہیں بس دلکش چہرہ، سج دھج اور لبھانے والی ادائیں ہی کافی معلوم ہوتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
